ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور : نیشنل ہائی وے کے کنارے پر موجود چھوٹی دکانیں ، گھر ہٹائے گئے

ہوناور : نیشنل ہائی وے کے کنارے پر موجود چھوٹی دکانیں ، گھر ہٹائے گئے

Sun, 29 Jun 2025 13:16:02    S O News

ہوناور،  29 / جون (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کے کنارے پر موجود چھوٹی دکانوں کے علاوہ تحویل اراضی کے سلسلے میں معاوضہ ادا کیے گئے گھروں کو ہٹانے کی کارروائی این ایچ اے کے افسران کی قیادت میں انجام دی گئی ۔ 
    
نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبے کے تحت معاوضہ ادا کرکے حاصل کی گئی زمین پر دکانیں اور مکانات ہٹانے کا حکم جاری ہونے کے بعد این ایچ اے کے افسران نے کالج سرک کے قریب جے سی بی کی مدد سے باکڑا دکانوں اور گھروں کو ہٹانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ بعض لوگوں نے از خود ہی زمین خالی کروادی ۔
    
اس موقع پر بعض دکان مالکوں اور افسران کے بیچ گرم گرم بحث اور تکرار کی صورتحال دیکھی گئی ۔ باکڑا دکانوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے بعض افراد کو افسران  پولیس اسٹیشن تک بھی بلا کر لے گئے اور کسی بھی قسم کی مخالفت کی پروا کیے بغیر دکانیں ہٹانے کی کارروائی جاری رکھی ۔ 
    
جائے وقوع پر پہنچنے پر والے تحصیلدار اور پٹن پنچایت کے چیف آفیسر نے مخالفت کرنے والوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ دوسرے لوگوں نے جگہ خالی کر دی ہے اس لئے تم لوگ بھی بغیر مخالفت کے جگہ خالی کرتے ہوئے اس کارروائی میں تعاون کرو تا کہ نیشنل ہائی وے کی توسیعی کا کام تیزی کے ساتھ جاری رکھا جا سکے ۔ جب دکانداروں نے جگہ خالی کرنے کے لئے دس دن کی مہلت طلب کی تو تحصیلدار پروین کرانڈے نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا دو دن کے اندر جگہ خالی کر دینا ہوگا ۔
    
اس موقع پر باکڑا دکانداروں کی موافقت میں بات کرتے ہوئے سماجی جہد کار شری رام جادوگر نے کہا کہ سڑک کنارے بیوپار کرنے والوں کو دکانداروں کی طرف سے اجازت دی جاتی ہے، انہیں بینکوں سے قرض لینے پر اکسایا جاتا ہے ۔ بیوپار کرنے والوں سے جگہ کا کرایہ کیوں وصول کیا جاتا ہے ؟  شری رام جادوگر نے کہا کہ کئی مالدار دکانداروں نے ابھی اپنی دکانیں خالی نہیں کی ہیں، ان کے خلاف اقدام کرنے کے بجائے غریبوں کے خلاف ہی کیوں کارروائی کی جا رہی ہے ۔ اس پر تحصیلدار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا سبھی دکانیں خالی کروائی جائیں گی ۔     


Share: