ہوناور، 24 / جنوری (ایس او نیوز) ہوناور تعلقہ کے گیروسوپّا روڈ پر سولے مورکی کے قریب ایک کار کے اندر دو بھائیوں کے زندہ جل جانے کے معمے کو پولیس نے حل کر دیا ہے جس کے بعد یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ یہ کوئی سڑک حادثہ نہیں بلکہ قتل کی ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھا ۔
پولیس نے مالی لین دین تنازعے کے پس منظر میں دو بھائیوں کو منصوبہ بند طریقے سے قتل کرنے اور اسے حادثے کی شکل دینے کے الزام میں شیموگہ چھپے ہوئے کلیدی ملزم اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔
خیال رہے کہ سولی مورکی کے قریب کار سمیت جل جانے والے سداپور کے رہنے والے منجو ناتھ ہسلر اور چندر شیکھر ہسلر کے اہل خانہ نے پرمود نائک پر شبہ ظاہر کیا تھا کہ وہ ان دونوں بھائیوں کا قاتل ہو سکتا ہے ۔ پولیس نے اس شکایت پر مستعدی سے تفتیش کی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے علاوہ کچھ شواہد ایسے سامنے آئے کہ اس سے یقین ہو گیا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کیے گئے قتل کا معاملہ ہے ۔ اس ضمن میں تفتیشی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے شیموگہ سے پرمود گنپتی نائک چندرا گھٹگی اور اس کے ساتھی ہیمنت نائک اور سنیا نائک کو گرفتار کر لیا ۔
معلوم ہوا ہے کہ دونوں مقتول بھائیوں اور پرمود نائک میں دوستی تھی ۔ مالی لین دین کے تعلق سے ان کے بیچ رنجش پیدا ہوئی ۔ پھر پرمود سے سازش کے تحت دونوں بھائی کو اپنے ساتھ بلا لیا اور انہیں زہریلی دوا ملی ہوئی شراب پلائی اور اس کے بعد لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے اپنے دوست ہیمنت اور سنیا کا تعاون حاصل کیا ۔ ماوین گونڈی میں واقع بنک سے پیٹرول خریدا گیا ۔ مقتول بھائیوں کی کار کو پرمود ہی ڈرائیو کرتا رہا ۔ پھر ہوناور کے پاس سولی مورکی میں پہنچنے کے بعد سڑک کنارے کھائی طرف کار دھکیل کر اس پر پیٹرول ڈالتے ہوئے آگ لگائی گئی ۔ تفتیش کے دوران خاص بات یہ پتہ چلی ہے کہ کار کو آگ لگانے کے دوران ملزم پرمود بھی آگ لگنے سے زخمی ہوا ہے ۔
اعلیٰ پولیس افسران کی نگرانی اور پولیس انسپکٹر سدا رامیشور کی قیادت میں پی ایس آئی منجوناتھ اور اے ایس آئی ماروتی نائک کی ٹیم نے اس پراسرار معاملے کو حل کرنے کی کارروائی کامیابی کے ساتھ انجام دی ۔