ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور میں گئو ہتھیا کا معاملہ : پولیس کر رہی ہے کلیدی ملزم وسیم کی تلاش - مخبر کو ملے گا پچاس ہزار روپے کا انعام

ہوناور میں گئو ہتھیا کا معاملہ : پولیس کر رہی ہے کلیدی ملزم وسیم کی تلاش - مخبر کو ملے گا پچاس ہزار روپے کا انعام

Tue, 28 Jan 2025 19:33:41    S.O. News Service
ہوناور میں گئو ہتھیا کا معاملہ : پولیس کر رہی ہے کلیدی ملزم وسیم کی تلاش - مخبر کو ملے گا پچاس ہزار روپے کا انعام

ہوناور، 28/ جنوری (ایس او نیو)ہوناور تعلقہ کے سالکوڈ میں حاملہ گائے ذبح کرنے کا جو معاملہ پیش آیا ہے اس کے بارے میں پولیس کا  کہنا ہے کہ اس واردات میں وسیم نامی شخص کلیدی ملزم ہے جو بھٹکل میں رہتا ہے اور اس واردات کے بعد فرار ہوگیا ہے۔
    
پولیس نے مفرور وسیم اور اس کے ایک اور ساتھی مزمل نامی شخص کی گرفتاری کے لئے سراغ فراہم کرنے والے مخبر کو ان کا نام خفیہ رکھنے کے وعدے کے ساتھ فی کس پچاس ہزار روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ پولیس کے بیان کے مطابق صرف چوتھی یا پانچویں جماعت تک اسکولی تعلیم پانے والا وسیم بڑے عرصے سے مجرمانہ سرگرمیوں میں بری طرح ملوث رہا ہے ۔ 
    
وسیم کی جنم پتری :اب پولیس کو مطلوب وسیم کے ساتھ بھٹکل کا نام جوڑ دیا گیا ہے، کیوںکہ وہ ایک عرصے سے اپنی ماں اور بیوی بچوں کے ساتھ بھٹکل میں مقیم ہے۔ پتہ چلاہے کہ اس کی والدہ ہوناور تعلقہ کے ولکی کی رہنے والی ہے اور اس کے والد ہوناور کاسرکوڈ کے رہنے والے تھے ۔ وسیم جب چھوٹا بچہ تھا تو شوہر کے انتقال کے بعد اس کی والدہ نے بھٹکل کے  شخص سے دوسری شادی کر لی اور وسیم کے ساتھ بھٹکل منتقل ہوگئی۔  

ولکی سے تعلق :چونکہ وسیم کی نانی کا گھر ہوناور تعلقہ کے ولکی میں موجود ہے اس لئے وہ کچھ سال تک ولکی میں اپنی نانی کے ساتھ مقیم رہا ۔ یہیں سے اس نے مجرمانہ سرگرمیاں انجام دینا شروع کیا ۔ جب مقامی لوگوں نے اس کی ان حرکتوں کے خلاف آواز اٹھائی اور اس سے گوشت خریدنے پر پابندی لگا دی تو اس نے وہاں سے حیدر آباد کا رخ کیا ۔ اس دوران کچھ دنوں کے لئے لوٹ کر آتا تھا اور پھر واپس چلا جاتا تھا ۔ 
    
تازہ واردات اور وسیم : معلوم ہوا ہے کہ جس وقت یہ تازہ واردات پیش آئی، اس وقت پندرہ بیس دن سے وسیم ولکی میں تھا ۔ مبینہ طور پر ہر دن گائیں چوری کرنے کے باوجود مقامی لوگوں کو اس نے گوشت فروخت نہیں کیا، کیونکہ اس سے گوشت خریدنے والے بہت ہی کم لوگ تھے ۔

جرائم کی فہرست :    مقامی لوگوں سے ملی معلومات کے مطابق وسیم کے خلاف 14 سے زائد مجرمانہ معاملے درج ہیں ۔ اس کے جرائم کی فہرست میں صرف مویشیوں کی چوری اور ہتھیا ہی نہیں بلکہ گوشت کی اسمگلنگ، بائک چوری، مار پیٹ، ڈرگس اور عصمت دری کے معاملے بھی شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ 19 اکتوبر 2020 کو دو گائیں سویفٹ کار میں لے جاتے وقت گیرسوپّا ویو پوائنٹ کے پاس جو کار حادثہ پیش آیا تھا اس کی وجہ سے وسیم کی مویشی چوری کا کاروبار سامنے آیا تھا ۔ اس حادثے کے موقع پر مقامی لوگوں نے مویشی چوری کے الزام میں اس پر حملہ بھی کیا تھا ۔ 

معلوم ہوا ہے کہ 2016 میں وسیم نے پٹن پنچایت کے سابق صدر شیوراج میستا کی گائے چوری کی تھی اور اپنے قبضے میں رکھی تھی ۔ شیوراج میستا کی شکایت پر اس وقت کے ہوناور پی ایس آئی پرمیشور گونکا نے وسیم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا تھا اور شیوراج میستا کو ان کی گائے واپس دلائی تھی ۔ 
    
کہا جاتا ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اس نے اپنی مجرمانہ چال نہیں بدلی اور مویشی چرانے اور گوشت فروخت کرنے سے باز نہیں آیا ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی سالکوڈ میں حاملہ گائے کے ذبیحہ اور پیٹ میں موجود بچھڑے کو پھینک کر چلے جانے والے معاملے سے جڑ گئی ہے ۔ 
    
ولکی جماعت اور وسیم کی مخالفت : ولکی کی مسلم جماعت اور مقامی افراد نے وسیم کی مجرمانہ سرگرمیوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور پولیس کے پاس شکایتیں درج کرواتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کنڑا میڈیا میں آئی ایک خبر کے مطابق ولکی کے گاوں سے وسیم کی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ولکی کی ایک نامور مسلم شخصیت نے وسیم کی گرفتاری کا سراغ دینے والے کے لئے اپنی جانب سے ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔ 


Share: