ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دکشن کنڑا میں تھم نہیں رہا ہے فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں کا سلسلہ - اب تک 49 افراد گنوا چکے ہیں اپنی جان

دکشن کنڑا میں تھم نہیں رہا ہے فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں کا سلسلہ - اب تک 49 افراد گنوا چکے ہیں اپنی جان

Thu, 29 May 2025 17:40:54    S O News

منگلورو ، 29 / مئی (ایس او نیوز) دکشن کنڑا میں فرقہ وارانہ اور انتقامی قتل کی وارداتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور کسی نہ کسی بہانے سے نشانہ بنا کر ایک دوسرے کی جان لیوا حملے کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کا  تازہ شکار عبدالرحمٰن اور قلندر شافع نامی دو افراد ہوئے جن میں سے عبدالرحمٰن نے موقع پر ہی اپنی جان گنوا دی ۔
    
اگر ہم دکشن کنڑا میں پچھلے پچاس برسوں میں ہوئے فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1976 سے اب تک 49 افراد اس قتل و غارت گری کا شکار ہوئے ہیں اور یہ وارداتیں فرقہ وارانہ فسادات ، تصادم اور کشیدگی کے ساتھ یکے بعد دیگرے پرتشدد انتقامی کارروائیوں کا سبب بنی ہیں ۔
    
یہ سن 1976 کی بات ہے جب منگلورو سے تقریباً 37 کلو میٹر کی دوری پر واقع کلاڈکا میں اسماعیل نامی ایک معروف نیوز ایجنٹ کو گلا دبا کر مار ڈالنے کی واردات پیش آئی ۔ اسماعیل کے قتل کے پس پردہ جن سنگھ    (موجودہ بی جے پی) کے لیڈروں کا ہاتھ ہونے کی افواہیں پھیل گئیں ۔ اس کے بعد فرقہ وارانہ فساد اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے حالات پیدا ہوگئے ۔
    
1978 میں کلاڈکا میں ایک روز نامہ کے ایڈیٹر راگھویندرا ایم ناگوری کو چھرا گھونپ کر ہلاک کیا گیا ۔ جس کے بعد یہ خبر عام ہوئی کہ اسماعیل کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے راگھویندرا کو قتل کیا گیا ہے ۔ اس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تصادم کی جو صورتحال بنی اسے قابو میں کرنے کے لئے پولیس کو ایک ہفتے تک کرفیو لاگو کرنا پڑا ۔ 
    
اس کے دو دہائیوں بعد 1998 میں سورتکل میں تین افراد کو قتل کر دیا گیا ۔ جبکہ پولالی کے مقام پر کرکٹ کھیلنے کے دوران معمولی جھگڑے کے بعد ایک گوجری بیوپاری کو قتل کر دیا گیا ۔ سال 2001 میں کنداورا کے مقام پر ایک آٹو رکشہ ڈرائیور  اور 2002 میں کودرولی میں ایک کارپینٹر کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ 
    
سب سے بد ترین تشدد سال 2003 میں دیکھنے کو ملا جب خاتون کو چھیڑنے کے معاملے پر شروع ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں ایک طبقے کے سات افراد اور دوسرے طبقے کے دو افراد قتل کر دئے گئے تھے ۔ اس کے علاوہ کلاک ٹاور کے قریب ایک پولیس کانسٹیبل کو بھی مار دیا گیا تھا ۔ 
    
سن 2005 میں منگلورو تعلقہ پنچایت کے صدر جبار، ایک رکشہ ڈرائیور اور اتر کنڑا سے تعلق رکھنے والے ایک انجان شخص کو مار ڈالا گیا ۔ 2006  میں مویشی کی اسمگلنگ کے نام پر قتل کی تین واراتیں پیش آئیں ۔ اسی سال مولکی سکھانندا شیٹی کا قتل کیا گیا جس کے بعد بھیڑ کو منتشر کرنے پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی ۔ پولیس انکاؤنٹر  میں مولکی رفیق کی ہلاکت کے دوران دو احتجاجی بھی فائرنگ میں اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ سال 2008 میں ایک معروف ہندو لیڈر اننتو کو قتل کر دیا گیا ۔ 2016 میں ڈسٹرکٹ جیل کے اندر مدورو ایسوبو اور گنیش شیٹی کے قتل کی وارداتیں انجام دی گئیں ۔
    
سال 2017 اور 18 کے دوران میں موڈبیدری کے پرشانت پجاری، بی روڈ کے شرتھ مڈیوال، سورتکل کے دیپک راو، کوٹاراچوکی کے بشیر اور بیجان پڈاو کے اشرف کلائی کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ 
    
سن 2020 میں سی اے اے قانون مخالف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ میں دو نوجوانوں کی جان گئی ۔ 2022 میں سولیا تعلقہ میں پروین نٹارو کا قتل ہوا جس کے بعد سورتکل میں فاضل کو قتل کر دیا گیا ۔  اب 2025 میں صرف ایک مہینے کے اندر تین قتل کی وارداتیں انجام دی جا چکی ہیں ۔ 
    
اس وقت فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے والے اور انتقامی کارروائیوں کو ہوا دینے والے بھاشن اور وائرل پیغامات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ خون کا دریا کہاں تک جائے گا اور کب یہ سلسلہ تھم جائے گا ۔    
  


Share: