بنگلورو، 28 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے ریاست میں پولیس نظام کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ لیتے ہوئے پولیس افسران کو کئی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے پولیس تحقیقات کے کمزور معیار، نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ تشدد، سائبر کرائم اور منشیات کی روک تھام میں کوتاہیوں پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر پولیس خود کارروائی نہیں کرے گی تو حکومت کو مداخلت کرنی پڑے گی۔
جمعہ کو بنگلورو میں ڈی جی پی دفتر میں اعلیٰ پولیس افسران کی جائزہ میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ریاست میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، لیکن پولیس تحقیقات کا معیار گرتا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔
انہوں نے بیجاپور میں ایک ڈکیتی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی شناخت ہونے کے باوجود پانچ مہینے گزرنے پر بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جو پولیس نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں بنگلورو میں پیش آئے مڈبھیڑ واقعے میں 11 افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ محکمہ نے وقت پر مکمل معلومات فراہم نہیں کیں، ورنہ حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا، "اگر سچ بروقت بتایا جاتا تو پروگرام منسوخ ہو سکتا تھا، کیا یہ سنگین غلطی نہیں ہے؟"
سدارامیا نے بعض سینئر افسران کو معطل کیے جانے کے فیصلے کو مجبوری قرار دیا اور کہا کہ حکومت چاہے کتنی بھی سخت کارروائی کرے، اگر پولیس ذمہ داری سے کام نہ کرے تو نتائج عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
انہوں نے دکشن کنڑا خصوصاً منگلورو میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ جرائم اور نفرت انگیز تقاریر پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا، "یہ واقعات صرف منگلورو میں ہی کیوں ہو رہے ہیں؟ پولیس اگر از خود کارروائی نہیں کرے گی تو حکومت کو سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔"
وزیر اعلیٰ نے درج ذیل اہم ہدایات جاری کیں:
ہر شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور چارج شیٹ وقت پر داخل ہو۔
سائبر جرائم میں گرفتاریوں کا تناسب کم ہے، اسے بہتر بنایا جائے۔
اعلیٰ افسران دفاتر میں بیٹھنے کے بجائے تھانوں کے باقاعدہ دورے کریں۔
منشیات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن ہو اور ریاست کو ’ڈرگ فری‘ بنانے کے لیے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
پولیس اسٹیشنز کو عوام دوست بنایا جائے تاکہ عام شہری اعتماد کے ساتھ رجوع کر سکیں۔
نفرت پھیلانے والوں، بچپن کی شادی، ریپ، پی او سی ایس او اور اسقاط حمل جیسے سنگین جرائم پر فوری اور سخت کارروائی ہو۔
خواتین، بچوں، بزرگوں اور کسانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے پولیس محکمہ میں 15.64 فیصد خالی آسامیوں کو دو ماہ کے اندر مرحلہ وار پُر کرنے کا بھی اعلان کیا اور تیقن دیا کہ حکومت محکمہ پولیس کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
سدارامیا نے زور دے کر کہا، "میں کسی بھی کیس کی تفتیش میں مداخلت نہیں کرتا، لیکن ذمہ داری سے کام کرنا ہر افسر کا فرض ہے۔"
اس اجلاس میں وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، وزیراعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد، چیف سکریٹری شالنی رجنیش، ایڈیشنل چیف سکریٹری انجم پرویز، داخلہ محکمہ کے اے سی ایس گوَرو گپتا اور ڈی جی پی ڈاکٹر ایم اے سلیم کے علاوہ دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔