ہلیال، 19 / مارچ (ایس او نیوز) سرکاری طور پر آنگن واڑی کے بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے جو غذائیت سے بھرپور اناج اور دودھ پاوڈر کے پیکیٹس فراہم کیے جاتے ہیں انہیں غیر قانونی طور پر خرید کر بازار میں بیچنے کے لئے مویشیوں کے شیڈ میں ذخیرہ کرنے کا ایک معاملہ بی کے ہلّی کے جنگل میں پیش آیا ہے ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر تحصیلدار پروین ہوچنّا اور سی پی آئی پروین جئے پال پاٹل کی قیادت میں چھاپہ ماری کرتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ روپوں سے زیادہ مالیت کے دودھ پاوڈر کے 35 تھیلے اور آنگن واڈی بچوں کے لئے فراہم کیے گئے 20 ہزار روپے سے زیادہ مالیت کے غذائی پاوڈر کے 79 پاکٹس ضبط کر لیے ۔
فوڈ انسپکٹر سنتوش تونڈلے کی شکایت پر اس معاملے میں ملوث سہدیو رودرپّا گوڈا اور وشنو میشالی نامی ملزمین کے خلاف کیس درج کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کلیدی ملزم وشنو میشالی فرار ہوگیا جبکہ رودرپّا اور ٹرک ڈرائیور لکشمن ناگپّا کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
کلیدی ملزم وشنو میشالی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کانگریسی لیڈر اور کاولواڈ کوآپریٹیو سوسائٹی کا صدر ہے ۔ اس نے آنگن واڑی کے لئے سرکاری طور پر مفت فراہم کیے جانے والے دودھ پاوڈر اور غذائی پاوڈر کی تھیلیاں رفت کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا ہے ۔ پولیس نے اس کی گرفتاری کے لئے جال بچھایا ہے ۔