بھٹکل، 18 مارچ (ایس او نیوز):گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کرناٹک کے مختلف اضلاع میں غیر معمولی موسمی تبدیلی کے نتیجے میں شدید ژالہ باری، تیز بارش اور آندھی کے واقعات پیش آئے، جس سے عام زندگی درہم برہم ہوگئی اور زرعی شعبے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
کئی علاقوں میں پہلی بار ژالہ باری، کشمیر جیسے مناظر:
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھارواڑ ضلع کے کَلگھٹگی، کلبرگی کے چنچولی، بیلگاوی کے کُڈچی اور اطراف کے کئی علاقوں میں پہلی بار اتنی شدید ژالہ باری دیکھنے میں آئی۔ کئی لوگوں نے اس کے مناظر کو ویڈیو میں قید کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق بڑے سائز کے اولوں نے دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں، کھیتوں اور مکانات کو سفید چادر میں ڈھک دیا، جس کے باعث کئی مقامات پر کشمیر جیسے مناظر دیکھنے کو ملے۔ بعض علاقوں میں اولوں کی موٹی تہہ اس قدر جمع ہو گئی کہ دور دور تک زمین برف سے ڈھکی ہوئی محسوس ہونے لگی۔
سڑکوں پر برف جیسی تہہ، ٹریفک نظام درہم برہم:
ژالہ باری کے بعد سڑکوں پر برف جیسی سفید تہہ بچھ جانے سے کئی شاہراہوں پر ٹریفک بری طرح متاثر ہوا۔ گاڑیوں کی رفتار انتہائی سست پڑ گئی جبکہ کئی مقامات پر طویل ٹریفک جام دیکھنے میں آئے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شمالی کرناٹک میں فصلوں کو شدید نقصان:
چنچولی اور کُڈچی سمیت شمالی کرناٹک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری نے کھڑی فصلوں کو بری طرح متاثر کیا۔ کسانوں کے مطابق دالیں، جوار، سبزیاں اور باغبانی کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر معاشی نقصان کا خدشہ ہے۔
چکمگلورو اور ملناڈ خطہ بھی متاثر:
چکمگلورو اور ملناڈ کے علاقوں میں بھی ژالہ باری اور موسلا دھار بارش کے باعث کافی، کالی مرچ اور دیگر زرعی پیداوار کو نقصان پہنچا۔ کئی دیہاتوں میں درخت گرنے، بجلی کے کھمبے ٹوٹنے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
بنگلورو سمیت شہری علاقوں میں بھی اثرات:
ریاستی دارالحکومت بنگلورو کے بعض علاقوں میں بھی ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، جہاں اچانک بارش اور اولوں نے شہری زندگی کو متاثر کیا۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام جیسے مسائل دیکھنے میں آئے۔
آسمانی بجلی گرنے سے کمسن لڑکے کی موت:
اسی خراب موسم کے دوران کوپّل ضلع میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں تقریباً 15 سالہ لڑکا آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ:
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ غیر معمولی صورتحال گرم موسم کے بعد فضائی دباؤ میں اچانک تبدیلی اور ہواؤں کے ٹکراؤ کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ محکمہ نے آئندہ چند دنوں کے دوران ریاست کے مختلف حصوں میں مزید گرج چمک، تیز ہوائیں (30 تا 40 کلومیٹر فی گھنٹہ) اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا ہے۔
کسانوں میں تشویش، انتظامیہ متحرک:
ریاست بھر میں کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ اچانک ژالہ باری نے تیار فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ نے نقصانات کا جائزہ لینے اور امدادی اقدامات شروع کرنے کی اطلاعات دی ہیں۔
گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی اس شدید ژالہ باری کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے اسے ایک غیر معمولی صورتحال قرار دیا ہے۔ ایک طرف اس سے گرمی سے وقتی راحت ملی، وہیں کشمیر جیسے مناظر، سڑکوں پر برف جیسی تہہ، ٹریفک جام، زرعی نقصان اور جانی نقصان اس موسمی تبدیلی کی شدت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔