قطر، یکم مارچ (ایس او نیوز / الجزیرہ) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی ہلاکت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں موجود امریکی اور اتحادی مفادات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کو مسلسل دوسرے روز مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال تیزی سے ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
دبئی میں اہم تنصیبات نشانہ
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ایران کے حملوں کے دوران دنیا کی بڑی تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہونے والی جبل علی پورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بندرگاہ کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی جس پر ہنگامی کارروائیوں کے ذریعے قابو پایا گیا۔
اسی دوران دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے باعث پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے۔
دبئی کے ساحلی علاقے پام جمیرا میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ معروف سیاحتی مقام برج العرب کے اطراف ڈرون ملبہ گرنے سے معمولی نقصان کی خبر دی گئی ہے۔
قطر اور عمان میں فوجی و بحری تنصیبات کے قریب دھماکے
قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید ایئر بیس کے قریب دھماکوں کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
عمان میں واقع تجارتی مرکز دقم بندرگاہ کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جس سے خلیجی بحری تجارت کے مستقبل پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں توانائی سپلائی خطرے میں
خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق کم از کم ڈیڑھ سو تیل بردار جہاز، جن میں خام تیل اور ایل این جی ٹینکر شامل ہیں، آبنائے ہرمز کے دونوں طرف کھلے سمندر میں لنگر انداز ہو گئے ہیں۔
عراق، سعودی عرب اور قطر کے ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں جہازوں کی موجودگی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بحرین میں امریکی تنصیبات نشانہ
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریب میزائل حملے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے۔
روس کا سخت ردعمل
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی قیادت سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ماسکو نے خبردار کیا کہ یہ پیش رفت پورے خطے کو طویل المدتی عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
شمالی کوریا کی مذمت
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کو “غیر قانونی جارحیت” قرار دیتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کہا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن کی “غلبہ پسندانہ پالیسی” خطے میں کشیدگی کا بنیادی سبب ہے۔