ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جی ایس ٹی نوٹس پر تاجروں کو راحت: وزیراعلیٰ سدارامیا کی وضاحت، ہراسانی نہیں ہوگی، ماضی کے بقایاجات کی وصولی بھی نہیں کی جائے گی

جی ایس ٹی نوٹس پر تاجروں کو راحت: وزیراعلیٰ سدارامیا کی وضاحت، ہراسانی نہیں ہوگی، ماضی کے بقایاجات کی وصولی بھی نہیں کی جائے گی

Wed, 23 Jul 2025 18:24:39    S O News

بنگلورو، 23 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی)ریاستی حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو جاری جی ایس ٹی نوٹسز پر پیدا شدہ الجھن اور احتجاج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تاجروں کو راحت پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں پیر کو بنگلورو میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف تجارتی انجمنوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی نوٹسز پر پیدا ہونے والی بے چینی کو دور کرنا ضروری ہے، خاص طور پر ان صورتوں میں جہاں یو پی آئی ٹرانزیکشنز، ذاتی لین دین اور قرض کی رقم کو بھی آمدنی تصور کرتے ہوئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوٹس دینا اصولی طور پر غلط نہیں، لیکن تاجر کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ خود براہِ راست محکمہ سے رجوع کرے اور اپنی وضاحت پیش کرے، اس عمل میں کسی بھی دلال کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ صرف ان تاجروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جن کی یو پی آئی لین دین کی رقم 40 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دودھ، گوشت، سبزی، پھل جیسی روزمرہ کی ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی لاگو نہیں ہوتا، اور ایسے تاجروں سے ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا، چاہے انہیں نوٹس جاری ہوئے ہوں۔

وزیراعلیٰ نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر تاجر لازمی طور پر جی ایس ٹی میں رجسٹریشن کروا لیں تو ماضی کے بقایاجات کی وصولی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کا مقصد تاجروں کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ شفاف اور منظم ٹیکس نظام کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس کے دوران مختلف تجارتی انجمنوں نے احتجاج کی دھمکی دی تھی، لیکن وزیراعلیٰ کی تفصیلی وضاحت کے بعد وہ احتجاج واپس لینے پر راضی ہو گئے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ ٹیکس کو ہدایت دی کہ وہ ریاست بھر میں آگاہی مہم اور ورکشاپس منعقد کرے تاکہ تاجروں کو جی ایس ٹی کے اصول و ضوابط سے بہتر طریقے سے واقف کروایا جا سکے۔

ریاستی حکومت کے مطابق گزشتہ دو سے تین سالوں کے دوران ریاست میں تقریباً 9000 تاجروں کو 18,000 جی ایس ٹی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ جی ایس ٹی شرحوں کا فیصلہ مرکزی وزیر خزانہ کی صدارت میں قائم جی ایس ٹی کونسل کرتی ہے، جس کا 50 فیصد حصہ ریاست کو منتقل ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی فخر کا اظہار کیا کہ جی ایس ٹی وصولی کے معاملے میں کرناٹک ریاست اس وقت ملک بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔


Share: