کاروار 18 / جولائی (ایس او نیوز) کچھ دن پہلے معروف سیاحتی مقام گوکرنا جنگلاتی علاقے میں ایک غار سے جس روسی خاتون اور اس کے بچوں کو بچایا گیا تھا اس کے تعلق سے گوکرنا پولیس نے وضاحت کی ہے کہ خطرناک حالات میں غار کے اندر بسیرا کرنے والی اس خاتون کو سمجھا بجھا کر باہر لانے کے بعد اسے اپنے تمام سامان کے ساتھ پہلے کاروار، پھر بینگلورو اور وہاں سے ٹمکورو بھیجا گیا تھا ۔ اس کے بیٹے کی چتا کی راکھ یا کوئی بھی دوسرا سامان گوکرنا پولیس نے اپنے پاس نہیں رکھا ہے۔
گوکرنا پولیس کو یہ وضاحت اس لئے جاری کرنا پڑا ہے کیونکہ مذکورہ روسی خاتون نے بعض میڈیا والوں کے سامنے کہا ہے کہ اس کے بیٹے کی چتا کی راکھ اور کچھ سامان پولیس کے ذریعے اس کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔
گوکرنا پولیس نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ روسی خاتون اور اس کے بچوں کو غار سے نکال کر بحفاظت کاروار کے ریسپشن سینٹر بھیجنے کے بعد وہاں سے بینگلورو میں غیر ملکیوں سے متعلقہ مرکز تک بھیجنے اور پھر وہاں سے ٹمکورو میں واقع ملک بدر کرنے سے قبل واقع غیر ملکیوں کو تحویل میں رکھنے کے سینٹر تک بھیجنے کا تقریباً چالیس ہزار روپے کا خرچ انسانی بنیادوں پر خود گوکرنا پولیس نے برداشت کیا ہے۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس خاتون کا جو کچھ بھی سامان تھا وہ اس کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔ ٹمکورو میں واقع ڈیٹنشن سینٹر میں تمام چیزیں وہاں کے متعلقہ دفتر میں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ اس لئے وہ سامان وہاں دفتری کارروائی کے طور پر روک لیا گیا ہوگا۔ اس معاملے میں گوکرنا پولیس کا نہ کوئی ہاتھ ہے اور نہ کوئی تعلق ہے۔ یہ ایک دفتری کارروائی ہے جس سے گوکرنا پولیس کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔