گوا 19 اگست (ایس او نیوز): گوا حکومت نے سابق تہلکہ ایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال کو 2013 کے جنسی زیادتی کیس میں بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 10 سال کی سخت قید کی سزا کو بڑھا کر عمر قید کرنے کی درخواست کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنی عرضی میں موقف اختیار کیا ہے کہ جرم کی نوعیت، سنگینی اور حالات کے مقابلے میں 10 سال کی سزا ناکافی اور غیر متناسب ہے۔
گوا حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں واضح کیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے مجرم قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر رہی بلکہ صرف سزا کی مدت میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ریاست نے استدعا کی ہے کہ سزا کو عمر قید تک بڑھایا جائے یا سپریم کورٹ حالات کے مطابق کوئی دوسری مناسب اور زیادہ سخت سزا مقرر کرے۔ حکومت نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ ہائی کورٹ نے مختلف دفعات کے تحت سنائی گئی سزاؤں کو بیک وقت چلانے کا حکم دیا، جبکہ ریاست کے مطابق انہیں الگ الگ چلایا جانا چاہیے تھا۔
2013 کا معاملہ کیا ہے؟
یہ معاملہ نومبر 2013 کا ہے، جب تہلکہ کے اس وقت کے ایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے گوا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں تہلکہ کے THiNK Fest پروگرام کے دوران اپنی ایک جونیئر خاتون ساتھی کو لفٹ کے اندر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ 7 اور 8 نومبر 2013 سے متعلق ہے۔ خاتون صحافی نے واقعے کے بعد تہلکہ کی اس وقت کی مینیجنگ ایڈیٹر کو ای میل کے ذریعے شکایت کی، جس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا۔
گوا پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ترون تیج پال کو 30 نومبر 2013 کو گرفتار کیا۔ وہ تقریباً سات ماہ جیل میں رہے، جس کے بعد یکم جولائی 2014 کو سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی۔
یہ نکتہ موجودہ سزا کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ 2013 سے 2026 تک گزرنے والے تقریباً 13 سال کو 10 سال کی سزا میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ تیج پال ان 13 برسوں کا بیشتر حصہ جیل سے باہر ضمانت پر رہے تھے۔
سات ماہ کی جیل اور باقی سزا کتنی؟
ترون تیج پال نے 2013 میں گرفتاری کے بعد تقریباً سات ماہ جیل میں گزارے۔ سپریم کورٹ نے جولائی 2014 میں انہیں ضمانت دی تھی۔ بعد ازاں وہ ضمانت پر باہر رہے اور مئی 2021 میں گوا کی سیشن عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چونکہ 2013 میں مقدمہ شروع ہوا تھا اور 2023 میں 10 سال مکمل ہوگئے، اس لیے 2026 میں ان کی 10 سالہ سزا پوری ہوچکی ہے۔ 10 سال کی موجودہ سزا 6 اگست 2026 کو بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی ہے۔ اس میں پہلے سے جیل میں گزارا ہوا تقریباً سات ماہ کا عرصہ، اگر قانونی طور پر سزا میں شمار کیا جاتا ہے، تو اسے منہا کیا جاسکتا ہے۔
اس حساب سے 10 سال میں سے تقریباً سات ماہ پہلے ہی جیل میں گزارے جاچکے ہیں اور تقریباً 9 سال 5 ماہ کی سزا باقی رہ سکتی ہے۔ تاہم یہ حتمی مدت نہیں ہے، کیونکہ سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیر غور آسکتی ہے اور عدالت کی جانب سے پہلے کی حراست کو سزا میں ایڈجسٹ کرنے، سزا میں تبدیلی یا کسی اور حکم کا امکان موجود ہے۔
ہائی کورٹ نے 6 اگست کے فیصلے کے بعد تیج پال کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی تھی۔
2021 میں سیشن عدالت نے بری کردیا تھا
اس کیس میں طویل قانونی کارروائی کے بعد گوا کی سیشن عدالت نے 21 مئی 2021 کو ترون تیج پال کو تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف گوا حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔
ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران شواہد، متاثرہ خاتون کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، تیج پال کی جانب سے بھیجی گئی ای میلز اور دیگر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ 6 اگست 2026 کو ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کا بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تیج پال کو مجرم قرار دے دیا۔
بمبئی ہائی کورٹ کا 6 اگست کا فیصلہ
بمبئی ہائی کورٹ کی گووا بینچ نے ترون تیج پال کو عصمت دری اور دیگر متعلقہ جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سخت قید سنائی۔ عدالت نے مختلف دفعات کے تحت سزائیں عائد کیں، تاہم انہیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں مؤثر مجموعی سزا 10 سال رہی۔ عدالت نے جرمانہ بھی عائد کیا اور متاثرہ خاتون کے لیے معاوضے کی ہدایت دی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں سیشن عدالت کے فیصلے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ نچلی عدالت نے متاثرہ خاتون کے رویے کو ’’مثالی متاثرہ‘‘ کے روایتی تصور کے مطابق پرکھنے کی کوشش کی۔ ہائی کورٹ نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو قابل اعتماد قرار دیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج، ای میلز اور دیگر شواہد کو بھی اپنے فیصلے میں اہمیت دی۔
گوا حکومت سزا بڑھانے کے حق میں کیوں؟
ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ 10 سال کی سزا جرم کی نوعیت اور سنگینی کے مقابلے میں ’’واضح طور پر ناکافی‘‘ اور ’’انتہائی غیر متناسب‘‘ ہے۔ حکومت کے مطابق معاملہ ایسے حالات سے متعلق ہے جن میں جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عمر قید کی سزا مناسب ہے۔
ریاست نے سپریم کورٹ سے یہ بھی کہا ہے کہ مختلف جرائم کے لیے عائد کی گئی سزاؤں کو بیک وقت چلانے کے بجائے ان کے الگ الگ نفاذ پر غور کیا جانا چاہیے۔ اسی بنیاد پر حکومت نے سزا بڑھا کر عمر قید کرنے یا عدالت کی جانب سے مناسب سمجھی جانے والی دوسری سخت سزا دینے کی درخواست کی ہے۔
تیج پال کا موقف
دوسری جانب ترون تیج پال نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنی بے گناہی برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ اس طرح اب اس کیس میں سپریم کورٹ کے سامنے دو الگ نوعیت کے مطالبات آنے کا امکان ہے: ترون تیج پال ہائی کورٹ کی جانب سے جرم ثابت کرنے اور 10 سال کی سزا کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں، جبکہ گوا حکومت سزا میں اضافہ کرکے عمر قید کا مطالبہ کر رہی ہے۔
13 سال پرانا مقدمہ پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا
ترون تیج پال کا یہ مقدمہ نومبر 2013 سے تقریباً 13 سال تک مختلف عدالتی مراحل سے گزرا۔ 2013 میں گرفتاری، 2014 میں ضمانت، 2021 میں سیشن عدالت سے بریت، اس کے بعد گوا حکومت کی ہائی کورٹ میں اپیل اور بالآخر 6 اگست 2026 کو ہائی کورٹ کی جانب سے بریت کا فیصلہ پلٹ کر سزا سنانا اس مقدمے کے اہم مراحل رہے ہیں۔
اب گوا حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی درخواست کے بعد معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو آئندہ کارروائی میں ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 10 سالہ سزا، ریاست کی جانب سے عمر قید کے مطالبے اور اگر تیج پال کی جانب سے اپیل دائر کی جاتی ہے تو ان کے اعتراضات، تینوں پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ 2013 سے 2026 تک گزرنے والے 13 سال کو 10 سالہ سزا کی تکمیل نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ تیج پال اس عرصے میں صرف تقریباً سات ماہ جیل میں رہے اور باقی مدت ضمانت پر یا عدالتی کارروائی کے دوران جیل سے باہر رہے۔ موجودہ 10 سالہ سزا 6 اگست 2026 کے ہائی کورٹ فیصلے سے متعلق ہے؛ پہلے گزارے گئے تقریباً سات ماہ کو قانونی طور پر ایڈجسٹ کیا جائے تو تقریباً 9 سال 5 ماہ کی مدت باقی رہ سکتی ہے، تاہم حتمی مدت سپریم کورٹ اور متعلقہ عدالتی احکامات پر منحصر ہوگی۔