ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گیانیش کمار کے معاملے پر غلام نبی آزاد کی اپوزیشن کے مطالبے کی حمایت، کہا ’مطالبہ غلط نہیں‘

گیانیش کمار کے معاملے پر غلام نبی آزاد کی اپوزیشن کے مطالبے کی حمایت، کہا ’مطالبہ غلط نہیں‘

Sun, 27 Sep 2026 11:24:25    S O News

سری نگر ، 27/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)اننت ناگ میں ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے صدر غلام نبی آزاد نے الیکشن کمیشن کو لے کر جاری تنازعہ پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے انتخابات کو لے کر الیکشن کمیشن پر سوال اٹھتے رہے ہیں اور اس پر انگلیاں بھی اٹھائی جاتی رہی ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت نہیں تھے۔ ان کے مطابق اب صورتحال مختلف ہے کیونکہ 2 انتخابی کمشنرز نے خود چیف الیکشن کمشنر کے سامنے کئی بار اپنی ناراضگی ظاہر کیے جانے کی بات کہی ہے۔

ہفتہ (26 ستمبر) کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار 2 الیکشن کمشنرز نے خود چیف الیکشن کمشنر کے سامنے ایک درجن سے زیادہ بار سوال اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق دونوں انتخابی کمشنرز نے اپنی تشویش سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا، لیکن انہوں نے ان اعتراضات کو قبول نہیں کیا اور اپنی مرضی کے مطابق کام کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آزاد نے کہا کہ اب اس پورے معاملے کو لے کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن ناموں کو ووٹر فہرست سے ہٹائے جانے کے بعد انتخابات کرائے گئے، کیا ایسے انتخابات کو جائز مانا جانا چاہیے یا پھر دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔

ڈی پی اے پی صدر نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کی جانب سے دوبارہ انتخابات کرانے کے مطالبے کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 3 میں سے 2 انتخابی کمشنرز کسی معاملے کو لے کر سوال اٹھا رہے ہیں تو لوگوں کو ان کی بات پر بھروسہ کرنا چاہیے اور معاملے میں کارروائی کی جانی چاہیے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس تنازعہ پر کہا گیا ہے کہ انتخابی کمشنرز کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تجاویز فیصلہ لینے کے عمل کا حصہ تھے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ مختلف رائے یا تبصرے کثیر رکنی ادارے میں غور و خوض کے معمول کے عمل کا حصہ ہیں اور اس کے فیصلے اتفاق رائے سے لیے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ غلام نبی آزاد کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 بار کچھ فیصلوں پر باضابطہ اعتراضات درج کیے تھے۔ ان میں ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے اور ہٹانے، فارم 6 میں تبدیلی اور ووٹر فہرست کے ڈیٹا سے متعلق مسائل شامل بتائے گئے ہیں۔


Share: