نئی دہلی ، 27/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری، کیرالہ اور مغربی بنگال کے انتخابات کے لیے بی جے پی کی اخراجات کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی پارٹی دفتر نے ریاستوں میں۵۲۹؍ کروڑ ۳۸؍ لاکھ روپے خرچ کیے، جس میں سے۲۸۶؍ کروڑ روپے صرف بنگال میں خرچ کئے، یعنی ۵۴؍ فیصد۔ پارٹی کی الیکشن کمیشن کو دی گئی اخراجات کی رپورٹوں کے مطابق بی جے پی نے مئی میں اختتام پذیر اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے میں حصہ لینے پر۵۲۹؍ کروڑ روپے خرچ کیے، جس میں سے نصف سے زیادہ رقم ایک ہی ریاست، مغربی بنگال میں خرچ ہوئی۔آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری، کیرالہ اور مغربی بنگال کے انتخابات کے لیے بی جے پی کی اخراجات کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی پارٹی دفتر نے ریاستوں میں۵۲۹؍ اعشاریہ ۳۸؍ کروڑ روپے خرچ کیے۔ انتخابی چکر کے اختتام پر پارٹی کا اختتامی بیلنس بینک بیلنس اور نقدی کی صورت میں ۷۶۸۹؍ اعشاریہ صفر ۶؍کروڑ روپے تھا،جس میں نقدی اور بینک بیلینس شامل ہیں، جبکہ انتخابی مدت کے دوران۱۴۲۹؍ کروڑ روپے کے اخراجات کےبعد تھیں۔
بعد ازاں بنگال میں، جہاں بی جے پی پہلی بار ریاست میں اقتدار میں آئی، پارٹی نے عمومی پارٹی مہم پر۲۱۷؍ اعشاریہ ۱۶؍ کروڑ روپے اور امیدواروں پر اخراجات کے طور پر۶۹؍ اعشاریہ۸۳؍ کروڑ روپے خرچ کیے، جس میں امیدواروں کو دیے گئے۵۸؍ اعشاریہ ۸۰؍ کروڑ روپے شامل ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق بی جے پی نے آسام میں۹۶؍ اعشاریہ ۲۶؍ کروڑ روپے، کیرالہ میں۶۷؍ اعشاریہ۸۲؍ کروڑ روپے، تمل ناڈو میں۵۱؍ اعشاریہ ۵۶؍ کروڑ روپے اور پڈوچیری میں۱۱؍ اعشاریہ ۸۹؍ کروڑ روپے خرچ کیے۔
واضح رہے کہ اگرچہ انتخابات میں حصہ لینے پر امیدوار کے خرچ کی حد مقرر ہے، لیکن پارٹیاں انتخابی مہم پر بے شمار رقم خرچ کر سکتی ہیں۔ تاہم ہر الیکشن کے بعد پارٹیوں کو اخراجات کا تفصیلی حساب جمع کرانا ہوتا ہے، جس میں سفر، جلسے، اشتہارات اور مہم کے مواد پر خرچ شامل ہوتا ہے۔