بنگلورو، 2 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی):کرناٹک کی ایک خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے پوتے اور جنتا دل (سیکولر) کے سابق رکن پارلیمان پرجول ریوَنّا کو عصمت دری کے ایک سنگین مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ملزم کو 11 لاکھ روپے بطور معاوضہ متاثرہ خاتون کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کو ایک تاریخی اور مثال قائم کرنے والا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ریاست کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ مقدمہ میسورو ضلع کے کے آر نگر کی ایک 47 سالہ گھریلو ملازمہ کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، جس نے الزام لگایا تھا کہ پرجول ریوَنّا نے متعدد بار اس کی عصمت دری کی، اور اس دوران اس کے جنسی استحصال کی ویڈیوز بنا کر اسے بلیک میل بھی کیا۔ متاثرہ خاتون نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ملزم نے اسے دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا اور طویل عرصے تک اس کی عزت و وقار کے ساتھ کھیلتا رہا۔
مقدمے کی سماعت ایک خصوصی عدالت میں ہوئی، جہاں استغاثہ نے متاثرہ کے بیانات، میڈیکل شواہد، اور ویڈیو ثبوت عدالت میں پیش کیے۔ عدالت نے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد پرجول ریوَنّا کو مجرم قرار دیا اور کہا کہ خواتین کے ساتھ جنسی جرائم ایک مہذب سماج کے لیے شرمناک داغ ہیں، جن کے مرتکبین کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ یہ دوسروں کے لیے نشان عبرت بنے۔
پرجول ریوَنّا، جنتا دل (س) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ایچ ڈی ریوَنّا کے بیٹے ہیں اور 2019 میں ہاسن حلقے سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ ان پر گزشتہ کچھ مہینوں سے کئی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی، ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور ہراسانی جیسے سنگین الزامات کی تفتیش جاری تھی۔
عدالت کے فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں نے جے ڈی ایس قیادت پر تنقید کی ہے۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ عدالت نے ثابت کر دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے ملزم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ یہ فیصلہ مظلوموں کے لیے انصاف اور طاقتوروں کے احتساب کی ایک روشن مثال ہے۔