بنگلورو، 20/ اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے محکمہ غذائی تحفظ و ادویات انتظامیہ نے غیر معیاری خوراک، ملاوٹ اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کے خلاف ریاست گیر کارروائی کرتے ہوئے 36 ریلوے اسٹیشنوں پر قائم 112 غذائی مراکز کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران زائدالمیعاد دودھ اور دہی، مشتبہ مضر غذائی رنگ سمیت متعدد غیر معیاری اشیا ضبط کی گئیں، جبکہ کئی مراکز میں صفائی اور خوراک ذخیرہ کرنے کے ناقص انتظامات بھی سامنے آئے۔
یہ خصوصی مہم بنگلورو کے کے ایس آر، یشونت پور، میسورو، ہبلی، منگلورو، بلاری، ہوسپیٹ، داونگیرے، کاروار، اڈپی اور یادگیر سمیت ریاست کے اہم ریلوے مراکز پر چلائی گئی۔ محکمہ کے افسران نے خوراک کے ذخیرے، اشیا پر درج معلومات، صفائی، خوراک کی تیاری اور اسے محفوظ رکھنے کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا۔
معائنے کے دوران میسورو ریلوے اسٹیشن کے بعض غذائی مراکز میں اڈلی تیار کرنے کے لیے پلاسٹک کی چادروں کے استعمال کا انکشاف ہوا، جبکہ باورچی خانوں میں زائدالمیعاد غذائی اشیا بھی موجود پائی گئیں۔ ہاویری ضلع میں نندنی دہی اور ڈوڈلا دودھ کے زائدالمیعاد پیکٹ ضبط کیے گئے۔
افسران نے جلیبی اور کھویا پیڑے میں ممنوعہ غذائی رنگ کے مشتبہ استعمال کا بھی پتہ لگایا۔ اس کے علاوہ پیاز اور سبزیوں پر پھپھوندی، غذائی معیار کے لیے غیر موزوں پلاسٹک کی بالٹیوں میں چٹنی رکھنے، گتے کے ڈبوں میں سموسے رکھنے اور وڑے اخبار پر رکھے جانے کے معاملات بھی سامنے آئے۔
کے آر پورم ریلوے اسٹیشن کے ایک ہوٹل میں صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات پائے گئے۔ کئی غذائی مراکز پر لازمی غذائی کاروباری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی نمایاں طور پر آویزاں نہیں کیے گئے تھے، جبکہ بعض دکانوں پر بغیر پیکنگ اور بغیر لیبل کے غذائی اشیا فروخت کی جا رہی تھیں۔
محکمہ کے مطابق بنگلورو، ہبلی اور منگلورو سے متعلق وندے بھارت ٹرینوں کی بعض غذائی خدمات میں صفائی اور معیار کے بہتر انتظامات پائے گئے۔ ان ٹرینوں میں خوراک کی تیاری، ذخیرہ اور مسافروں کو فراہم کیے جانے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ریاستی وزیر صحت و خاندانی بہبود یو ٹی قادر نے کہا کہ ریلوے کے بعض غذائی مراکز میں حفظانِ صحت کے حالات تشویشناک ہیں اور ان مراکز کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے بنیادی اصولوں پر مستقل طور پر عمل کیا جائے تو اس طرح کی بیشتر خلاف ورزیوں کو روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد محض غلطیاں تلاش کرنا نہیں بلکہ غذائی کاروبار سے وابستہ افراد میں بیداری پیدا کرنا، خلاف ورزیوں کو درست کرانا اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مستقل معیار قائم کرنا ہے۔
معائنے کے دوران تازہ تیار کھانوں اور پیک شدہ غذائی اشیا کے نمونے بھی حاصل کیے گئے۔ حکام کے مطابق وندے بھارت جیسی ان ٹرینوں میں بھی خوراک کے معیار کی جانچ کی جا رہی ہے جہاں بعض صورتوں میں پہلے سے تیار شدہ کھانے کو ٹرین میں دوبارہ گرم کرکے مسافروں کو پیش کیا جاتا ہے۔
محکمہ غذائی تحفظ کے کمشنر نے بتایا کہ خلاف ورزیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹس ریلوے کے متعلقہ نامزد افسران اور ریلوے حکام کو بھیجی جا رہی ہیں۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غذائی مراکز اور فروشندگان کے خلاف غذائی تحفظ و معیار قانون کے تحت قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ریلوے کے بعد فضائی سفر سے وابستہ غذائی خدمات اور ہوائی جہازوں میں فراہم کیے جانے والے کھانوں کی بھی جانچ کا منصوبہ ہے۔ وزیر یو ٹی قادر نے کہا کہ معاشرے کے ہر شعبے کو اس نگرانی کے دائرے میں لایا جائے گا اور مقصد عوام کو محفوظ، صاف ستھری اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔