ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایران کے خلیجی ممالک میں جوابی حملوں کا اثر: پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خوف؛ بھٹکل میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں

ایران کے خلیجی ممالک میں جوابی حملوں کا اثر: پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خوف؛ بھٹکل میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں

Wed, 04 Mar 2026 15:28:34    S O News
ایران کے خلیجی ممالک میں جوابی حملوں کا اثر: پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خوف؛ بھٹکل میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں

بھٹکل 4/مارچ (ایس او نیوز) : مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ممکنہ پٹرول قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے باعث بدھ کے روز بھٹکل کے متعدد پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔

مقامی شہری اپنی گاڑیوں میں پٹرول بھرانے کے ساتھ ساتھ احتیاطی طور پر بوتلوں میں بھی پٹرول لیتے نظر آئے۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد پیدا ہوئی بین الاقوامی بے یقینی کا نتیجہ بتائی جارہی ہے، جس نے عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کردی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے خام تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اور اس میں کسی بھی رکاوٹ کا براہِ راست اثر عالمی توانائی منڈیوں پر پڑتا ہے۔

Click here for report in English

رپورٹس کے مطابق جہاز رانی میں رکاوٹ کی خبروں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی اور مسلسل تیسرے سیشن میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار رہی یا مزید بڑھی تو عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

بھارت اپنی خام تیل کی ایک بڑی مقدار خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، جس کا تقریباً نصف حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں طویل عدم استحکام سپلائی چین کو متاثر کرسکتا ہے اور اس کے اثرات مقامی ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کے مطابق ملک کے پاس خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات، بشمول پٹرول، ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF)، کے وافر ذخائر موجود ہیں جو قلیل مدتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تقریباً 25 دن کا خام تیل اور مزید 25 دن کے لیے ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم سرکاری یقین دہانیوں کے باوجود عوامی خدشات برقرار ہیں۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر جلد ہی مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کے پیش نظر لوگ پیشگی ایندھن بھروا رہے ہیں۔

توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گھبراہٹ میں غیر ضروری ذخیرہ اندوزی مقامی سطح پر مصنوعی قلت پیدا کرسکتی ہے۔ فی الحال سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم عالمی حالات کے پیش نظر توانائی منڈیوں میں بے یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔

Click here to watch video


Share: