بھٹکل، 20 مارچ (ایس او نیوز): رمضان المبارک کے اختتام پر جمعہ کو بھٹکل اور اطراف میں عیدالفطر مذہبی جوش و خروش، عقیدت اور باہمی ہم آہنگی کے ماحول میں منائی گئی۔ مسلمانوں نے ایک ماہ کی عبادات، صبر و تقویٰ کے بعد عیدگاہ پہنچ کر نمازِ عید ادا کی اور اس پُرمسرت موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا۔
29 روزے مکمل ہونے کے بعد جمعرات کی شام پڑوسی ریاست کیرالہ میں شوال کا چاند نظر آنے کے بعد بھٹکل میں بھی عیدالفطر کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت بھٹکل کے ساتھ کمٹہ، اُڈپی، مینگلور اور دیگر متصل ساحلی علاقوں میں بھی عید منائی گئی۔ اعلان کے ساتھ ہی مسلمانوں نے عید کی تیاریوں کو حتمی شکل دی، جن میں خاص طور پر صدقۂ فطر (فطرہ) کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا، تاکہ معاشرے کے غریب اور مستحق افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق فطرہ کی ادائیگی نمازِ عید سے قبل ضروری ہے۔


جمعہ کی صبح بھٹکل کے عیدگاہ میدان میں بڑی تعداد میں فرزندانِ توحید جمع ہوئے، جہاں خلیفہ جامع مسجد کے خطیب مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے نمازِ عید کی امامت کی اور خطبۂ عید پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عیدالفطر محض خوشی کا تہوار نہیں بلکہ رمضان میں حاصل ہونے والی روحانی تربیت کو ساری زندگی برقرار رکھنے کا پیغام ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تقویٰ، صبر، خیرات اور سماجی ذمہ داریوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔
انہوں نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بہتر تعلقات کو فروغ دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے مثبت مکالمہ اور باہمی احترام ضروری ہے۔ انہوں نے غیر مسلم بھائیوں کو بھی اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی دعوت دی۔
بھٹکل کے علاوہ شرالی سمیت دیگر علاقوں کی مساجد میں بھی نمازِ عید ادا کی گئی، جبکہ مرڈیشور کے نیشنل کالونی علاقے میں واقع اسکول کے میدان میں حسبِ روایت عید کی اجتماعی نماز کا اہتمام کیا گیا۔
نمازِ عید اور عربی و اُردو خطبے کے بعد مسلمانوں نے ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر پورے علاقے میں اخوت، محبت اور سماجی یکجہتی کا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا، جو عیدالفطر کے اصل پیغام—ہمدردی، مساوات اور شکرگزاری—کی عکاسی کرتا ہے۔
