بنگلورو، 5 جون (ایس او نیوز / ایجنسی) : بین الاقوامی بُوکر انعام یافتہ ممتاز کنڑا مصنفہ بانو مشتاق نے کہا ہے کہ انگریزی نہ آنا کبھی ان کے لیے احساسِ کمتری کا باعث نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ خود اعتمادی اور اپنی زبان پر عبور ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ وہ آج کرناٹک میڈیا اکیڈمی اور پریس کلب بنگلورو کے اشتراک سے کبّن پارک میں منعقدہ ایک اعزازی مکالماتی پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں۔
بانو مشتاق نے کہا: "میری مادری زبان اردو ہے، میری ریاست کی زبان کنڑا ہے، اور مجھے انگریزی زیادہ نہیں آتی، مگر اس کا کوئی افسوس یا کمتری کا احساس مجھے نہیں۔ ہمیں اپنی زبانوں پر فخر ہونا چاہیے اور مکمل گرفت رکھنی چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ابتدائی تعلیم کنڑا میڈیم میں ہوئی، ان کی تمام تحریریں کنڑا زبان میں ہیں، جنہیں محترمہ دیپا بھستی نے انگریزی میں ترجمہ کیا، اور انہی ترجمہ شدہ کہانیوں نے انہیں بین الاقوامی سطح پر پہچان دلائی۔
ایک سوال کے جواب میں بانو مشتاق نے کہا: "جب مجھے بُوکر انعام ملا تو میں بین الاقوامی اسٹیج پر مترجمین کے ذریعے بات چیت کرتی تھی، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ ہر فرد کی زبان ہی اس کی شناخت ہے۔" انہوں نے اپنی زندگی کی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک معلمہ، وکیل، اور سماجی کارکن کے طور پر سرگرم رہیں، اور انہی تجربات کو ادب میں ڈھال کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ "میں نے کبھی کسی اعزاز کے لیے نہیں لکھا۔ میری زندگی، میری شادی، میری جدوجہد، سب کچھ ادب کا حصہ بن گیا ہے۔ میری تحریریں میرے مشاہدات اور سچائیوں کی عکاس ہیں۔" انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں وہ ایک ناول اور اپنی سوانح عمری لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس موقع پر کرناٹک میڈیا اکیڈمی کی صدر محترمہ عائشہ خانم نے بانو مشتاق اور دیپا بھستی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دونوں خواتین ریاست کی خواتین کے لیے ایک تحریک ہیں، اور ان کی بین الاقوامی کامیابی ہم سب کے لیے فخر کا مقام ہے۔"
معروف صحافی دنیش امین مٹو نے کہا کہ "بانو مشتاق اور دیپا بھستی نے دنیا بھر میں نہ صرف کنڑا ادب کو پہچان دلائی بلکہ خواتین کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی۔"
انہوں نے بانو مشتاق کے والد کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے پرانی روایات کے باوجود اپنی بیٹی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو مواقع دیں تو وہ بھی بانو مشتاق بن سکتی ہیں۔"
پریس کلب کے جنرل سیکریٹری شیوکمار بیلی تٹے نے کہا کہ "میڈیا اکیڈمی اور پریس کلب کا یہ پروگرام ایک تاریخی لمحہ ہے، جہاں ہم ادب، صحافت اور ریاست کا نام روشن کرنے والی ان عظیم خواتین کا اعزاز کر رہے ہیں۔"
تقریب میں محترمہ بانو مشتاق، محترمہ دیپا بھستی، اور معروف ہفت روزہ 'سدھا' کی نو منتخب ایڈیٹر محترمہ ایس. رشمی کو اعزاز سے نوازا گیا۔ محترمہ دیپا بھستی نے کہا کہ ان کا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ترجمے میں کنڑا ادب کی روح کو برقرار رکھا جائے، تاکہ انگریزی قارئین کو بھی اصل احساس حاصل ہو۔
اس اعزازی تقریب میں ادب، صحافت، ترجمہ اور تعلیم سے وابستہ شخصیات کے علاوہ طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کرناٹک میڈیا اکیڈمی کی سیکریٹری محترمہ ایم. سہانا نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔
