بنگلورو، 25/ اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) دھر مستھلا میں سینکڑوں لاشیں غیر قانونی طور پر دفن کیے جانے کے معاملے میں کل اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے نقاب پوش چنیا کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران چنیا نے دفن کھوپڑیوں کے حصول کے راز ایک کے بعد ایک کھل کر افشا کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، چنیا دہلی میں ایک کاروبار چلا رہا تھا، جس کے حوالے سے ایس آئی ٹی نے دھماکہ خیز معلومات حاصل کی ہیں۔ ایس آئی ٹی کے افسران نے اسے 10 دن کے لیے اپنی تحویل میں لیا اور تفصیلی پوچھ تاچھ کی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ چنیا نے دھر مستھلا میں کھوپڑیوں کو لانے سے پہلے دہلی میں کئی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں اس معاملے کی تفصیل بتائی۔
چنیا نے انکشاف کیا کہ اس معاملے میں ایک بڑے پیمانے پر کاروبار بھی ہوا تھا۔ اس نے وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عدالت سے حفاظتی سیکورٹی حاصل کی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اس کے بیانات قلمبند کیے اور ان کے مطابق چنیا کی نشاندہی پر 17 مقامات کی کھدائی کی گئی، جس میں ہر جگہ کا نام اس نے بتایا۔
فارنسک سائنس لیبارٹری کی تصدیق کے مطابق، کھوپڑیوں میں موجود مٹی اس مقام کی مٹی سے مماثل نہیں تھی، جس سے واضح ہوا کہ کھوپڑیاں کسی اور جگہ سے لائی گئی تھیں۔ تفتیش کے دوران چنیا نے کہا کہ اس کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور تھا اور وہ صرف دوسروں کی ہدایات پر کام کر رہا تھا۔