بیلتنگڈی، 12 / جولائی (ایس او نیوز) دھرمستھلا میں مبینہ طور پر وقتاً فوقتاً پیش آئی ہوئی عصمت دری اور پُر اسرار قتل کی متعدد وارداتوں کے تعلق سے ضلع ایس پی کے پاس شکایت درج کرنے والا سابق صفائی کرمچاری اپنے وکیلوں کے ساتھ پولیس کے تحفظ میں عدالت کے سامنے حاضر ہوا ۔
صفائی کرمچاری کے طور پر خدمات انجام دینے کے دوران سیکڑوں لڑکیوں کی لاشوں کو خفیہ طور پر ٹھکانے لگانے کا دعویٰ کرنے والے شخص نے بیلتنگڈی کے پرنسپال سوِل جج اور فرسٹ کلاس جوڈیشیل میجسٹریٹ کے سامنے حاضر ہو کر ایک گھنٹہ ۲۰ منٹ تک اپنا بیان درج کروایا ۔ اس موقع پر جج نے شکایت کنندہ کے وکیلوں کو وہاں موجود رہنے کی اجازت نہیں دی ۔
ماضی میں ہوئی ان وارداتوں کے تعلق سے گواہی اور ثبوت پیش کرنے کے علاوہ ان لاشوں کو ٹھکانے لگائے گئے مقام کی واضح نشاندہی کے لئے تیار ہوئے اس صفائی کرمچاری کے وکیل اوجسوی گوڈا اور سچن دیشپانڈے نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت میں بیان درج ہونے کے بعد مذکورہ کرمچاری کو بیلتنگڈی پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے ۔ بیلتنگڈی سرکل پولیس انسپکٹر کی قیادت میں دیر رات تک اس سے پوچھ تاچھ جاری رہی ۔ اسے گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور پولیس کی کسٹڈی میں نہیں دیا گیا ہے ۔ اس سے بس تفتیش کی جا رہی ہے ۔ شکایت کنندہ ہمارے ساتھ ہی رہے گا اور جب بھی پولیس کہے گی اسے پیش کیا جائے گا ۔ شکایت کنندہ کو 2018 میں لاگو کی گئی گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی وٹنیس پروٹیکشن اسکیم کے تحت تحفظ دیا گیا ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وارداتوں کے پیچھے کس ہاتھ ہے تو انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے ۔ یہ معلومات عدالت اور تفتیشی افسر کو بتائی گئی ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ شخص نے لاشوں کو دفنائے گئے پرانے ٹھکانے سے خفیہ طور پر حاصل کیے گئے لاشوں کے کچھ باقیات بھی ثبوت کے طور پر پولیس کے سامنے پیش کیے ۔ ان باقیات کی جانچ فارنسک ماہرین کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔ آگے چل کر اس شخص کی طرف سے نشان زد کردہ مقامات پر پہنچ کر کھدائی کرنے اور وہاں سے باقیات بازیافت کرنے کی قانونی کارروائی شروع ہونے کی توقع ہے ۔