بنگلورو، 15 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)دیونہلی زرعی زمین تنازعہ پر کسانوں کی طویل جدوجہد، احتجاج اور عوامی دباؤ بالآخر رنگ لے آیا۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے دیونہلی تعلقہ کے چنّارایا پٹنہ اور اطراف کے دیہاتوں میں کسانوں کی زرعی زمین کو حاصل کرنے کا منصوبہ مکمل طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اعلان آج ودھان سودھا میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران، کسانوں کے نمائندے، مقامی قائدین اور وزراء شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سدارامیا نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کے احتجاج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی کسان سے زبردستی زمین حاصل نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی کسان رضاکارانہ طور پر زمین دینا چاہے تو حکومت اس سے زمین حاصل کرے گی، لیکن انہیں معقول معاوضہ، بہتر قیمت اور ترقی یافتہ متبادل پلاٹس فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت دیونہلی کے 1777 ایکڑ اراضی پر ایک ایرو اسپیس پارک قائم کرنا چاہتی تھی تاکہ بینگلورو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم، کسانوں کی شدید مخالفت، زبردست تحریک اور زمین کی زرخیزی کی بنیاد پر یہ فیصلہ واپس لیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں کئی وزراء اور شخصیات موجود تھیں جن میں ایم بی پاٹل، کے ایچ منی اپّا، ایچ کے پاٹل، پریانک کھرگے، بایرتی سریش، وزیراعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد، اٹارنی جنرل سشی کیرن شیٹی اور ممتاز سماجی کارکن پرکاش راج شامل تھے۔
پرکاش راج نے حکومت کے فیصلے کو "عملی سماجی انصاف" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے صرف زبانی دعوے نہیں کیے بلکہ زمینی سطح پر اقدام اٹھاکر کسانوں کے ساتھ انصاف کیا ہے۔
ریاستی حکومت کے اس یو ٹرن کو کسانوں، سماجی تنظیموں اور اپوزیشن کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ کسانوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی اجتماعی جدوجہد کی جیت ہے اور حکومت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ عوام دوست ہے۔