منگلورو ، 8 / جولائی (ایس او نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) دکشن کنڑا کمیٹی نے ریاستی وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ دھرمستھلا میں ہوئی سلسلہ وار قتل کی وارداتوں کا الزام لگاتے ہوئے ایک صفائی کرمچاری نے اپنے وکیلوں کے ساتھ جو شکایت درج کروائی ہے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے اور شکایت کنندہ اور اس کی پیروی کرنے والے وکیلوں کو ضروری تحفظ فراہم کیا جائے ۔
سی پی آئی ایم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس سے قبل دھرمستھلا کی نیتراوتی ندی اور آس پاس کے علاقے میں بے شمار لاوارث لاشیں دستیاب ہونے اور اس کے نتیجے میں عوام کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہونے کے معاملے سے حال ہی میں سامنے آئے ہوئے الزام کو تقویت ملتی ہے ۔ دھرمستھلا میں 80 کی دہائی میں پیش آئے ہوئے پدما لتا نامی طالبہ کے اغوا اور قتل کے معاملے میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا ۔ لیکن اس معاملے میں پولیس ملزموں کا پتہ لگانے میں ناکام رہی ۔ اس کے بعد سے کئی قتل، مشکوت اموات، غیر فطری اموات جیسے معاملے دھرمستھلا اور اس کے اطراف میں پیش آتے رہے ہیں ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ 12 سال قبل سوجنیا نامی لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے علاوہ ہاتھی کے مہاوت اور اس کی بہن کے قتل معاملے میں بھی اب تک قاتلوں کا پتہ نہیں چلا ہے ۔
سی پی آئی ایم کا کہنا ہے کہ سوجنیا قتل معاملے سے متعلقہ حق معلومات کے تحت پولیس کی طرف سے دی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ایک دہائی کے عرصے میں دھرمستھلا اور اوجیرے کے حدود میں 416 سے زائد غیر فطری اموات اور لاوارث لاشوں کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔ یہ پوری ریاست کو حیران و ششدر کرنے والی صورت حال ہے ۔
سی پی آئی ایم دکشن کنڑا کے سیکریٹری منیر کاٹیپلا نے مطالبہ ہے کہ اب جبکہ ایسی حالت میں خود کو اور اپنے اہل خانہ کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کی شرط پر ایسے بھیانک الزامات کو شواہد کے ساتھ ثابت کرنے کے لئے ایک شخص آگے آیا ہے تو ریاستی حکومت کو چاہیے کہ اس کی شکایت کو انتہائی سنجیدگی سے لے اور کسی بھی قسم کی دباو بنانے والی لابی کے سامنے جھکے بغیر پوری طرح غیر جانبدارانہ تفتیش کروائے ۔