انکولہ، یکم / جولائی (ایس او نیوز) انکولہ کے کینی میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف مقامی ماہی گیروں کی محاذ آرائی کے بیچ تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے والی جے ایس ڈبلیو کمپنی کی طرف سے انکولہ تعلقہ کے اسکولوں میں بچوں کو تحفے کے طور پر اسکول بیگ، چھتری، کمپاس باکس، بوٹس بکس، پانی کی بوتل اور دیگر اشیاء پر مبنی کٹس تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی مگر مقامی لوگوں کی مخالفت کے بعد کمپنی کے نمائندوں کو واپس لوٹنا پڑا ۔
معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دو دنوں سے جے ایس ڈبلیو کمپنی کے نمائندے کینی، بڈگیری، بھاویکیری اور بیلے کیری کے اسکولوں میں پہنچ کر کٹس تقسیم کر رہے تھے ۔ کینی میں ہائیر پرائمری اسکول اور سرکاری ہائی اسکول کے اساتذہ نے یہ بات ایس ڈی ایم کمیٹی کے علم میں لائے بغیر ہی یہ کٹس قبول کر لیے تھے ۔
جب یہ بات مقامی لوگوں کو معلوم ہوئی تو تجارتی بندرگاہ کے مخالفین، ماہی گیروں اور عوام نے اسکولوں کے اساتذہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بندرگاہ کمپنی کی طرف سے اس طرح کے گفٹ کٹس تقسیم کرنا عوام کو لالچ دینے اور اپنے حق میں ماحول بنانے کی کوشش ہے اس لئے اسے قبول نہیں کرنا چاہیے ۔
جب سوموار کے دن کمپنی کے نمائندے تقریباً 1100 کٹس گاڑی میں بھر کر بیلے کیری اسکول پہنچے اور گفٹ کٹس تقسیم کرنے کی کوشش کی تو مقامی ماہی گیروں اور عوام نے سخت مخالفت کرتے ہوئے انہیں کٹس تقسیم کرنے سے روک دیا ۔ موقع پر پہنچنے والے سرکل پولیس انسپکٹر چندرا شیکھر مٹھ پتی، پی ایس آئی اودپّا کی طرف سے کشیدہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے بعد بندرگاہ کمپنی کے نمائندے خاموشی سے واپس لوٹ گئے ۔
اس موقع پر ماہی گیر لیڈروں نے مقامی افراد سے اپیل کی کہ تجارتی بندرگاہ کی مخالفت کرنے والوں کو کمپنی کی طرف سے لالچ دینے اور عوامی رائے کو اپنے حق میں بنانے کی اس کوشش کا شکار نہ ہوں ۔