ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / یوم صحافت کے موقع پر وزیراعلیٰ سدرامیا نے میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا؛سما ج کو گمراہ نہ کیا جائے، توہم پرستی اور سنسنی خیزی سے دور رہیں

یوم صحافت کے موقع پر وزیراعلیٰ سدرامیا نے میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا؛سما ج کو گمراہ نہ کیا جائے، توہم پرستی اور سنسنی خیزی سے دور رہیں

Tue, 01 Jul 2025 19:02:54    S O News
یوم صحافت کے موقع پر وزیراعلیٰ سدرامیا نے  میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا؛سما ج کو گمراہ  نہ کیا جائے،  توہم پرستی اور سنسنی خیزی سے دور رہیں

بنگلورو، یکم جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی):یوم صحافت کے موقع پر کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج یکم جولائی کو صحافیوں، خاص طور پر دیہی علاقوں کے صحافیوں کے لیے دو اہم فلاحی اسکیموں کا آغاز کیا۔ بنگلورو میں منعقدہ تقریب میں وزیراعلیٰ نے دیہی صحافیوں کے لیے مفت بس پاس اور 'آروگیہ سنجیوِنی' ہیلتھ اسکیم کا باضابطہ افتتاح کیا، جسے حکومت نے صحافیوں کی بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے۔

یوم صحافت کی یہ تقریب کرناٹک میڈیا اکیڈمی، محکمہ اطلاعات و نشریات اور کرناٹک ورکنگ جرنلسٹس اسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔ اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے میڈیا کے موجودہ کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ:"اگر ہمیں سچائی کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹی خبریں بڑھ چکی ہیں؟"

انہوں نے میڈیا کو خبردار کیا کہ وہ توہم پرستی اور سنسنی خیزی سے دور رہیں، اور ایسی صحافت نہ کریں جو سماج کو گمراہ کرے۔ سدارامیا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان کی گاڑی پر کوئی کوا بیٹھ جائے اور میڈیا اسے برا شگون قرار دے کر خبریں چلائے، تو کیا یہ صحافت ہے یا توہم پرستی کا فروغ؟

وزیراعلیٰ نے میڈیا کی آزادی، بے خوفی اور غیر جانبداری کو جمہوریت کی اصل روح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو حکومت کی خوشامد کرنے کے بجائے عوام، آئینی اقدار اور سچائی کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ"یہ اسکیمیں صحافیوں کو خوش کرنے یا ان سے حمایت حاصل کرنے کی نیت سے نہیں، بلکہ یہ ان کا حق ہے جسے ادا کیا جا رہا ہے۔"

سدارامیا نے آزادی کی تحریک میں اخبارات کے کردار کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اُس دور میں میڈیا عوام کو بیدار کرنے کا اہم ذریعہ تھا، اور آج بھی اس کی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ جھوٹ، نفرت اور تعصب سے دور رہ کر سماجی مساوات اور جمہوریت کی بقا کے لیے کام کرے۔

وزیراعلیٰ کے اس خطاب کو صحافتی حلقوں میں ایک اہم پیغام تصور کیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ میڈیا کے رجحانات پر نہ صرف تنقید کی بلکہ صحافت کی اصل روح اور اس کی سماجی ذمہ داری کو بھی واضح کیا۔


Share: