ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو بھگدڑ پر سیاسی ہنگامہ: سدارمیا کا کمبھ میلے سے موازنہ

بنگلورو بھگدڑ پر سیاسی ہنگامہ: سدارمیا کا کمبھ میلے سے موازنہ

Thu, 05 Jun 2025 12:31:10    S O News

بنگلورو، 5 جون (ایس او نیوز / ایجنسی) : چنا سوامی اسٹیڈیم کے قریب آئی پی ایل کی جیت کا جشن ایک المناک سانحے میں تبدیل ہو گیا، جب بھگدڑ میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے پر نہ صرف عوامی غم و غصہ سامنے آیا ہے بلکہ کرناٹک کی سیاست میں بھی گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سدارمیا نے حادثے پر ردعمل دیتے ہوئے اس کا موازنہ کمبھ میلے جیسے مذہبی اجتماعات سے کر دیا، جہاں ماضی میں بھی بھگدڑ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا، "ہم نے ہجوم کا اندازہ لگایا تھا، لیکن اتنی بڑی بھیڑ کی توقع نہیں تھی۔ مہاکمبھ جیسے اجتماعات میں بھی بھگدڑ ہوتی رہی ہے۔" ان کے اس بیان پر بی جے پی نے شدید اعتراض کیا اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ "کمبھ میلے جیسے مذہبی اور منظم اجتماع کا موازنہ ایک کرکٹ جشن سے کرنا درست نہیں۔ اگر پولیس نے اجازت نہیں دی تھی تو حکومت نے زبردستی اجازت کیوں دی؟" انھوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے بعد بھی جشن جاری رکھا گیا، اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو سیلفیاں لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ انھوں نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو واقعے کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا۔

اس کے جواب میں وزیراعلیٰ سدارمیا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی اور واقعے سے اس حادثے کا موازنہ کرکے دفاع کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ایسے حادثات بڑے اجتماعات میں ممکن ہیں۔ انھوں نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور زخمیوں کے علاج کا مکمل خرچ حکومت کی طرف سے برداشت کرنے کا اعلان کیا۔

نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اتنی بڑی بھیڑ کی امید نہیں تھی۔ اسٹیڈیم کی گنجائش 35,000 تھی، لیکن تقریباً 3 لاکھ افراد جمع ہو گئے تھے۔ دروازے توڑ دیے گئے۔ ہم اس واقعے پر معذرت خواہ ہیں اور آئندہ احتیاطی اقدامات کیے جائیں گے۔" انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اس افسوسناک واقعے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

حادثے کے بعد حکومت نے عدالتی جانچ کے احکامات جاری کر دیے ہیں، اور افسران کو 15 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔


Share: