مدور، 28 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے آج مدور اسمبلی حلقہ میں ایک شاندار ترقیاتی مہم کے تحت 1146 کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا اور ان کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام میں مستفیدین کو ریاستی حکومت کی مختلف اسکیمات کے تحت فوائد بھی تقسیم کیے گئے۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی معیشت کو استحکام دلانے میں کانگریس حکومت کی پانچ گارنٹی اسکیموں کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اسکیمات کے مثبت اثرات کی بدولت کرناٹک آج فی کس آمدنی کے لحاظ سے ملک کی سرفہرست ریاست بن چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہماری حکومت نے صرف کاویری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت پچھلے دو سالوں میں 560 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام انجام دیے ہیں۔ بی جے پی یہ بتائے کہ اس نے اپنے دور اقتدار میں مدور کے لیے کیا کیا؟‘‘
سدارامیا نے مزید کہا کہ برسوں سے بند پڑی منڈیا شوگر فیکٹری کے بجلی کے بقایاجات ریاستی حکومت نے ادا کیے ہیں اور اس کی بحالی کے لیے 52 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے فی لیٹر 5 روپے کی سبسڈی کا اعلان بھی یاد دلایا۔
مدور شہر کے لیے 100 فٹ چوڑی سڑک کے منصوبے کو منظوری دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مقامی رکن اسمبلی اُدے کی تعریف کی اور کہا کہ ’’اُدے ان نمائندوں میں سے ہیں جو کم بولتے ہیں مگر کام زیادہ کرتے ہیں۔‘‘
سدارامیا نے مرکزی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ریاست کو کھاد کی مناسب فراہمی نہیں کی جا رہی ہے جو کہ کسانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ارکانِ پارلیمان اور مرکزی وزراء سے مطالبہ کیا کہ وہ مرکز پر دباؤ ڈال کر کھاد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
اس جلسہ میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، ضلعی انچارج وزیر چلوارایا سوامی، وزراء ایچ سی مہادیوپا، پِریاپٹن وینکٹیش، کرشنا بائرے گوڑا، دنیش گنڈو راؤ، رحیم خان، ارکان اسمبلی روی گنیگ، دنیش گولی گوڑا سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات شریک رہیں۔ جلسہ کی صدارت مدور کے رکن اسمبلی اُدے نے کی۔