ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / لوک سبھا میں ایف سی آر اے سمیت اہم بل پیش ہوں گے، ہنگامہ جاری رہنے کا امکان

لوک سبھا میں ایف سی آر اے سمیت اہم بل پیش ہوں گے، ہنگامہ جاری رہنے کا امکان

Mon, 03 Aug 2026 11:13:35    S O News

نئی دہلی ، 3/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں رام مندر چندہ چوری اور دہلی میں مظاہرہ کے دوران طلبا کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی معاملوں پر اپوزیشن لگاتار حکومت کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اپوزیشن کی مخالفت کے سبب مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ میں کافی مشکلات کا سامنا ہے اور مختلف بلوں کو پیش کرنے یا پاس کرانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس مخالفت کے درمیان مرکزی حکومت آج 4 اہم بلوں کو آگے بڑھانے کی تیاری میں ہے۔

مانسون اجلاس ختم ہونے میں اب محض 9 دن باقی بچے ہیں۔ اس لیے حکومت کی کوشش ہوگی کہ 3 اگست کو ایوان کے ملتوی ہونے سے قبل اہم بلوں کو پاس کرا لیا جائے۔ حالانکہ پارلیمنٹ میں آج ایک بار پھر ہنگامہ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں طلبا کے خلاف ہوئی کارروائی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان چاہتے ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ ایوان میں حاضر ہو کر امت شاہ اس معاملے میں وضاحت پیش کریں۔

مرکزی حکومت آج جن 4 اہم بلوں کو پیش کرنے والی ہے، ان میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھا کر 37 کرنے سے متعلق بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ہندوستانی شماریاتی ادارہ (انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ) کے لیے وسیع آئینی ڈھانچہ دستیاب کرانے اور مائیکرو، اسمال و میڈیم صنعت (ایم ایس ایم ای) ڈیولپمنٹ ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری میں ہے۔

اپوزیشن لیڈران کے مطابق حکومت اس مانسون اجلاس میں ایف سی آر اے ترمیمی بل بھی پاس کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون سے حکومت کو ان اداروں کی جائیداد پر کنٹرول کا حق مل سکتا ہے، جن کا ایف سی آر اے رجسٹریشن رینیو نہیں ہوتا۔ ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا لیڈر ڈیریک او برائن کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کو وسیع جانچ کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے۔


Share: