بنگلورو، 12 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی): کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا ہے کہ رائل چیلنجرز بنگلور و(آر سی بی) کی جیت کے موقع پر منعقدہ جشن کے دوران پیش آئے افسوسناک بھگدڑ واقعے کی تفصیلی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، اور جسٹس ڈی. کُنہا کی قیادت میں تشکیل دیے گئے یک رکنی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کابینی اجلاس میں 17 جولائی کو پیش کی جائے گی۔ کابینہ میں اس پر تفصیلی بحث کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے آج ودھان سودھا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے میں 11 افراد کی موت واقع ہوئی تھی، جس کے بعد حکومت نے واقعے کی مکمل حقیقت جاننے، ذمہ داروں کی شناخت کرنے اور مستقبل کے لیے اصلاحی تجاویز حاصل کرنے کے مقصد سے جسٹس ڈی. کُنہا کی قیادت میں ایک واحد رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو دو حصوں میں مکمل شکل میں پیش کر دی ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے یہ واضح کیا کہ انہوں نے تاحال رپورٹ کا مکمل مطالعہ نہیں کیا ہے، اور اس کی سفارشات پر فیصلہ کابینی سطح پر گفتگو کے بعد ہی لیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا رپورٹ میں سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل (CAT) کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی معطلی کے خلاف دیے گئے فیصلے کا بھی ذکر شامل ہے، سدارامیا نے کہا کہ یہ موضوع بھی کابینی بحث میں شامل ہوگا اور پھر ہی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے گی۔
یاد رہے کہ آر سی بی ٹیم کی فتح کے موقع پر منعقدہ عوامی جشن میں ناقص انتظامات اور مبینہ سرکاری لاپروائی کے باعث شدید بھگدڑ مچی تھی، جس کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس واقعے نے انتظامیہ، خاص طور پر پولیس پر سنگین سوالات کھڑے کیے تھے، جس کے بعد حکومت نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔
اب تمام نظریں 17 جولائی کو ہونے والے کابینہ کے اس اہم اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں رپورٹ کی روشنی میں حکومت کی جانب سے ممکنہ اقدامات اور فیصلے متوقع ہیں۔