ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / سیلاب و خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گے نو منتخب وزراء، شیوکمار نے دی ہدایت

سیلاب و خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گے نو منتخب وزراء، شیوکمار نے دی ہدایت

Tue, 04 Aug 2026 17:14:24    S O News

بنگلورو ، 4/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ نو منتخب وزراء بدھ سے اپنی ذمہ داری والے اضلاع کا دورہ کریں، سیلاب اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کریں اور اپنی تفصیلی رپورٹ وزیر محصولات کو پیش کریں تاکہ حکومت فوری اور مؤثر فیصلے کرسکے۔

ودھان سودھا میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ تقریباً دو گھنٹے تک نو منتخب وزراء کو حکومت کے سامنے موجود چیلنجوں اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں تفصیلی رہنمائی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی، بعض علاقوں میں شدید بارش، کاویری طاس میں پانی کی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر کابینہ میں تفصیلی غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالیہ بارشوں سے وقتی طور پر کچھ راحت ملی ہے، تاہم خشک سالی کا خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ شیوکمار کے مطابق شیواموگا اور تیرتہ ہلی سمیت بعض علاقوں میں شدید بارش سے نقصانات ہوئے ہیں، جن کی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے اور متاثرین کو مناسب امداد فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ وزراء اپنے اضلاع کے دوروں میں صرف حکومتی نمائندوں ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں کو بھی ساتھ لے کر متاثرہ علاقوں کا معائنہ کریں، تاکہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جاسکے۔

کابینہ میں نئی قیادت کو موقع دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس میں بہت سے سینئر اور اہل رہنما موجود ہیں، لیکن اس مرتبہ نئے چہروں کو بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور بھی اپنی سیاسی زندگی میں کئی مواقع پر وزارت سے محروم رہے، مگر صبر اور پارٹی سے وابستگی کی بدولت آج اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ناراض اراکین اسمبلی سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں ہر اہل رکن کا احترام کیا جاتا ہے اور مناسب وقت پر سب کو ذمہ داریاں دینے کی کوشش کی جائے گی۔

کابینہ میں خواتین کو نمائندگی نہ ملنے کے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ حکومت کی توجہ میں ہے اور جلد خواتین کو بھی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "خواتین کے بغیر ہماری پارٹی مکمل نہیں ہوسکتی، اس لیے انہیں ضرور نمائندگی دی جائے گی۔"

کانگریس میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے اور کابینہ سے متعلق تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام 139 ارکان اسمبلی ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور اختلافات کی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔

کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر بعض اراکین اسمبلی کی ناراضی اور ممکنہ استعفوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت نہ ملنے پر دکھ ہونا فطری بات ہے، لیکن ماضی میں انہیں خود بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور صبر ہی کامیابی کا راستہ ثابت ہوا۔

کاویری آبی تنازع کے سلسلے میں تمل ناڈو کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کیے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک حکومت قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ریاست کے تمام سیاسی رہنما، ارکان پارلیمنٹ، مرکزی وزراء اور اپوزیشن جماعتیں ایک آواز ہیں اور حکومت قانون کے مطابق کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ریاست کے مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گی۔


Share: