کولکاتہ ، 22/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال میں رائے دہندگان کی فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر)کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا اور۱۶؍ دسمبر کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کر دی گئی ۔ اس کے بعد بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او)ایپ میں ایک نیا ’آپشن‘ شامل کیا گیا ہے جس کے خلاف بی ایل او رائٹس پروٹیکشن فورم نے احتجاجاً آواز اٹھائی ہے۔ فورم نے ایس آئی آر کے کام کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے اور۲۲؍ اور۲۳؍دسمبر کو سی ای او کے دفتر تک ایک مارچ کی اپیل بھی کی ہے ۔ ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کے دوران، بی ایل اوز نے الیکشن کمیشن کی مسلسل نئی ہدایات کے خلاف احتجاج کیا۔ اب، مسودہ فہرست شائع ہونے کے بعد بھی، بی ایل او ایپ میں ایک نیا آپشن شامل کیا گیا ہے، ’منطقی تضادات کی دوبارہ تصدیق کریں(Re-verify logical discrepancies)۔ یہ نیا آپشن سنیچر کی صبح سے بی ایل او ایپ پر نظر آرہا ہے۔ اس کے ذریعے الیکشن کمیشن نے بی ایل اوز کو ہدایت دی ہے کہ’مشتبہ معاملات‘ کی تحریری وضاحت دی جائے کہ مشتبہ ووٹروں کے نام مسودہ فہرست میں کیوں ہیں اوران کےنام حتمی فہرست میں شامل کیوں کئے جائیں ؟بی ایل اوز کی وضاحت کی بنیاد پر الیکشن کمیشن ایسے ووٹروں کے دعوے اور اعتراضات طلب کرے گا۔
چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او)دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق مشتبہ ووٹر وہ ہیں جن کے نام ۲۰۰۲ء کی فہرست میں شامل نہیں تھےحالانکہ اس وقت ان کی عمر۱۸؍ سال یا اس سے زیادہ ہوگی یعنی ۲۰۰۲ء کی فہرست میں انہیں نام درج کرانا چاہئے تھالیکن وہ نہیں کرائے ا ور اب ۲۰۲۵ء میں کرا رہے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ اس وقت انہوں نے ووٹر لسٹ میں اندراج کیوں نہیں کرایا اورحالیہ ایس آئی آر میں انہوں نے اپنے والدین کے ریکارڈ کی بنیاد پرکیوں درخواست دی ہے؟ایسے مشتبہ معاملات کا دوسرا زمرہ وہ ہےجس میں ایسے ووٹروں کے نام شامل ہیں جن کی عمر۱۵؍سال یا اس سے کم ہے لیکن فارم میں انہیں ’باپ‘ بتایا گیا ہے ۔ ایک معاملہ ایسابھی سامنے آیاجس میں ایک ووٹر اس وقت ہی ’باپ‘ بن گیا جب اس کی عمر صرف’ ۵‘ سال تھی۔مشتبہ معاملات کا تیسرا زمرہ وہ ہے جس میں ۴۰ ؍ سال یا اس سے کم بھی عمرکے کچھ ووٹروں کا اندراج ’دادا ‘ کے طورپر ہوا ۔
مشتبہ معاملات کا چوتھا اورآخری زمرہ وہ ہے جن میں ووٹروں کےوالد اوروالدہ کے نام یکساں ہیں۔ انہیں الیکشن منطقی تضادات(logical discrepancies) قرار دیتا ہے اور ان پربی ایل اوز سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ تقریباً۳۲؍لاکھ ایسے ووٹر ہیں جن کی شناخت ’غیر میپ شدہ‘ کے طور پر کی گئی ہے ، یعنی ان کے نام ۲۰۰۲ء کی ایس آئی آر میں نہیںتھے۔ الیکشن کمیشن ایسے ووٹروں کو سماعت کیلئے بلائے گا ۔ بی ایل او کو ان ناموں کی دوبارہ تصدیق کرنی ہوگی اور ایسے ووٹروں کی شناخت کرنی ہوگی۔بی ایل اوز کو اس بات کی تصدیق کرنی ہوگی کہ یہ ووٹرز۲۰۰۲ءمیں رجسٹرڈ ووٹر تھے لیکن۲۰۲۵ء میں معمولی غلطیوں کی وجہ سے ان کے ناموں کو میپ نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، بی ایل او کو ان لوگوں کیلئے ایک حلف نامہ دینا ہوگاجن کے ناموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس صورت میں ان ووٹروں کو سماعت کے لیے نہیں بلایا جائے گا۔
اس معاملے پرالیکشن ورکرز اور بی ایل او یونٹی فورم کے جنرل سیکریٹری سواپن منڈل نے کہا’’آج (بروزسنیچر) صبح، بی ایل او ایپ میں ایک نیا آپشن نمودار ہوا۔ پہلے، ایک آپشن تھا، جسے اب تھوڑا سا تبدیل کر دیا گیا ہے۔ منطقی اختلاف کے آپشن کو تبدیل کر کے منطقی اختلاف کی دوبارہ تصدیق کریں ۔
دریں اثنا، بی ایل او رائٹس پروٹیکشن فورم نے بی ایل او ایپ میں اس نئے آپشن کو شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کو سی ای او منوج کمار اگروال کو مخاطب کرتے ہوئے ایک خط بھی بھیجا، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ان پر ہر روز نئے کام تھوپے جا رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایس آئی آر سے متعلق تمام کاموں کا بائیکاٹ کریں گے۔ پلیٹ فارم کی نمائندگی کرنے والی تنوشری مودک بھٹاچاریہ نے کہا’’ہر صبح ہم اٹھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بی ایل او ایپ میں ایک نیا آپشن شامل کیا جاتا ہے۔ پھر ہمیں اسے استعمال کرنے کیلئے پلے اسٹور سے اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ۱۱؍ دسمبر کو، بی ایل اوز نے اپنا تمام کام مکمل کیا اور ووٹر لسٹ کے مسودے کو شائع کرنے میں مدد کی۔ اس کے باوجود ان پر اضافی کام کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟