ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ’بیرونِ ملک اتحاد، ملک میں تقسیم کیوں؟‘ موہن بھاگوت کے بیان پر بی کے ہری پرساد کا آر ایس ایس سے سوال

’بیرونِ ملک اتحاد، ملک میں تقسیم کیوں؟‘ موہن بھاگوت کے بیان پر بی کے ہری پرساد کا آر ایس ایس سے سوال

Tue, 01 Sep 2026 12:52:31    S O News

بنگلورو، یکم ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی۔ کے۔ ہری پرساد نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے نیویارک میں دیے گئے حالیہ بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کا تصور حقیقی ہندو سوچ نہیں ہوسکتا تو پھر ملک میں اقلیتوں کے بارے میں پیدا کیے جانے والے سیاسی ماحول اور بیرونِ ملک پیش کیے جانے والے اتحاد و بھائی چارے کے پیغام میں اتنا نمایاں فرق کیوں ہے؟

بی۔ کے۔ ہری پرساد نے اپنے بیان میں کہا کہ موہن بھاگوت نے نیویارک میں منعقدہ بین المذاہب مکالمے کے دوران اس مفہوم کی بات کہی کہ ’’جو شخص ہندوستان میں مسلمانوں کے بغیر ملک چاہتا ہے، وہ حقیقی ہندو نہیں ہوسکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے سیاسی رویے اور بیرونِ ملک پیش کیے جانے والے قومی یکجہتی کے پیغام میں اتنا تضاد کیوں نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں، عیسائیوں یا کسی بھی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے والی کوئی بھی سیاسی یا سماجی سوچ آئین کی بنیادی روح کے منافی ہے۔

بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ جب اقلیتوں کو سیاسی صف بندی اور مذہبی پولرائزیشن کا مرکز بنانے کی سیاست ملک میں جاری ہو تو بیرونِ ملک ہندو مسلم اتحاد کا پیغام کس طرح دیکھا جائے؟ ان کے مطابق یہ محض ایک تقریر کا معاملہ نہیں بلکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی نظریاتی دیانت داری اور عملی رویے کا بھی سوال ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے منسوب کولمبو کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس واقعے کا ذکر سینئر صحافی بی۔ آر۔ پی۔ بھاسکر کی تحریر میں ملتا ہے۔ ان کے مطابق 1977 سے 1979 کے دوران جنتا حکومت میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے واجپائی کے کولمبو دورے کے موقع پر ایک عشائیے میں مبینہ طور پر گائے کے گوشت سے متعلق واقعہ پیش آیا تھا۔ ہری پرساد نے کہا کہ جب کھانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو واجپائی سے منسوب ایک طنزیہ جواب بھی اس تحریر میں درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس واقعے کو محض کسی فرد کی ذاتی غذائی پسند کا معاملہ سمجھا جائے تو بات وہیں ختم ہوجاتی ہے، لیکن ہندوستان میں گائے کو مذہبی اور سیاسی علامت کے طور پر استعمال کرنے والی سیاست کے پس منظر میں ملک کے اندر اختیار کی جانے والی زبان اور بیرونِ ملک کے رویے کے درمیان فرق پر سوال اٹھانا سیاسی طور پر غیر متعلق نہیں ہے۔

بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ یہی سوال موہن بھاگوت کے حالیہ بیان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہندوستان میں اقلیتوں کو شک، خوف اور مذہبی تقسیم کی سیاست کا سامنا ہو اور اس ماحول پر سوال اٹھائے بغیر بیرونِ ملک اتحاد اور بھائی چارے کی بات کی جائے تو محض بیانات سے اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ واقعی مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نہیں ہے تو پھر اقلیتیں بار بار اس کی سیاسی سوچ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست میں ہدف کیوں بنتی ہیں؟ مذہب کی بنیاد پر ووٹروں کو تقسیم کرنے والی سیاسی تعبیرات کیوں مضبوط کی جاتی ہیں اور اکثریت و اقلیت کی تقسیم کے ذریعے سماجی عدم مساوات کے بنیادی مسائل کو پسِ پشت کیوں ڈالا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ بات اہم نہیں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ خود کو براہِ راست اقلیت مخالف تنظیم قرار دیتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی سیاسی فکر اور اس سے وابستہ سیاسی قوتوں کی سرگرمیوں کا معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ ہندوستان میں دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کو صدیوں سے تعلیم، روزگار، دولت، اقتدار اور نمائندگی کے میدان میں عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ آئین نے ان تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کے لیے ریزرویشن، مساوی مواقع، سماجی انصاف اور سیاسی نمائندگی جیسے اقدامات فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سماجی انصاف کے بنیادی سوالات کے بجائے مذہبی شناخت کے مسائل کو سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا جاتا ہے تو دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقیقی حقوق کے سوالات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی تقسیم کی سیاست معاشرے کی توجہ بنیادی معاشی اور سماجی مسائل سے ہٹانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

کانگریس رہنما نے عوام سے اپیل کی کہ ’’ہندو بمقابلہ مسلمان‘‘ کے سیاسی تصور کو سماج کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا ذریعہ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی نظر میں ہندوستانی شہری کی پہلی شناخت ہندوستانی ہونا ہے، اس کا مذہب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو خوش کرنا نہیں بلکہ ہر شہری کے حقوق کا یکساں تحفظ کرنا ہے۔

بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ اگر موہن بھاگوت کے بیرونِ ملک دیے گئے بیانات میں ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام واقعی خلوص پر مبنی ہے تو یہی پیغام ہندوستان کے سیاسی اور سماجی ماحول میں بھی نظر آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک اتحاد اور ملک کے اندر دشمنی کا تاثر ایک ایسے تضاد کو جنم دیتا ہے جس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔

صرف بیرونِ ملک مسلمانوں کے ساتھ محبت اور بھائی چارے کی بات کرنا کافی نہیں، بلکہ ہندوستان میں بھی ایسا ماحول پیدا ہونا چاہیے جہاں مسلمان اور دیگر اقلیتیں خود کو برابر کا شہری اور سماج کا باعزت حصہ محسوس کریں۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سنائی دینے والی قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی زبان ہندوستان کی گلیوں اور محلوں میں بھی سنائی دینی چاہیے۔


Share: