ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنتر منتر پتھراؤ معاملہ: ابھیجیت دپکے کا الزام، طلبہ نہیں بی جے پی کے غنڈے ملوث تھے

جنتر منتر پتھراؤ معاملہ: ابھیجیت دپکے کا الزام، طلبہ نہیں بی جے پی کے غنڈے ملوث تھے

Sat, 01 Aug 2026 12:17:55    S O News

اورنگ‌آباد ، یکم اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) جنتر منتر پر احتجاج کے دوران ہوئے پتھرائو پر ہر طرف سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ طلبہ کے پُر امن احتجاج کے دوران پتھر کہاں سے آئے اور پتھرائو کس نے کیا؟  پولیس اور طلبہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔ جنترمنتر پر طلبہ اور پولیس کے درمیان ہوئی جھڑپ کے دوران زخمی ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے اہل خانہ نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے میڈیا کے سامنے شکایت کی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی حفاظت کرنے والے پولیس اہلکاروں پر پتھرائو ایک افسوسناک امر ہے کیونکہ ہر وردی کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے۔

اس کے جواب میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ جنتر منتر پر پتھرائو طلبہ نے نہیں بلکہ بی جے پی کے غنڈوں نے کیا تھا جو احتجاج کو خراب کرنے وہاں آئے تھے۔ ابھیجیت دپکے نے کہا ’’وہاں احتجاج میں شامل طلبہ نے پتھرائو نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کسی بھی طرح کا تشدد نہیں کیا۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’جن لوگوں نے پتھرائو کیا وہ بی جے پی کے بھیجے ہوئے غنڈے تھے۔ کچھ لوگ وہاں احتجاج کا ماحول خراب کرنے کیلئے آئے تھے۔ انہی لوگوں نے پولیس پر پتھرائو کیا۔ ‘‘ ابھیجیت دپکے نے کہا ’’ پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بہت برا ہے۔ ہمیں اس پر بے حد افسوس ہے لیکن اس میں طلبہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’ وہاں اتنے سارے پتھرکہاں سے آئے؟ پتھروں سے بھرا ٹرک کس نے لاکر کھڑا کیا تھا؟ یہ سب بی جے پی کے غنڈوں نے کیا تھا۔ ‘‘  یاد رہے کہ ابھجیت دپکے اس سے قبل کئی بار یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ جنتر منتر کا علاقہ جہاں پختہ سڑکیں اور صاف ستھرے فٹ پاتھ ہیں وہاں اتنے پتھر کہاں سے آگئے جو پولیس پر پھینکے گئے؟ انہوں نے بتایا تھا کہ جو ٹرک پتھروں سے بھر کر لایا گیا تھا وہ پولیس کا تھا۔

واضح رہے کہ ۲۰؍ جولائی کو پولیس نے طلبہ پر بری طرح سے لاٹھی چارج کیا تھا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ زخمی ہوئے لیکن اس کے دوسرے اور تیسرے دن سوشل میڈیا پر کئی ایسے ویڈیو وائرل ہوئے تھے جس میں نوجوانوں کے ہاتھوں پولیس کی پٹائی اور دونوں طرف سے پتھرائو کے مناظر دکھائی دیئے تھے۔ 


Share: