ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار کے وزیر اعلٰی کا مسلم خاتون کا حجاب کھینچنے کا معاملہ: متاثرہ ڈاکٹر شدید ذہنی دباو کا شکار؛ نوکری چھوڑ کر کولکتہ منتقل

بہار کے وزیر اعلٰی کا مسلم خاتون کا حجاب کھینچنے کا معاملہ: متاثرہ ڈاکٹر شدید ذہنی دباو کا شکار؛ نوکری چھوڑ کر کولکتہ منتقل

Thu, 18 Dec 2025 17:20:13    S O News
بہار کے وزیر اعلٰی کا مسلم خاتون کا حجاب کھینچنے کا معاملہ: متاثرہ ڈاکٹر شدید ذہنی دباو کا شکار؛ نوکری چھوڑ کر کولکتہ منتقل

نئی دہلی،18/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) بہار کے وزیر اعلی ٰ نتیش کمار کا خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچے  جانے کا معاملہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس تعلق سے اب نتیش کمار کا ایک ویڈیو  سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر نصر ت پروین جس کا حجاب نتیش کمار نے کھینچا تھا، اس نے بہار کی سرکاری ملازمت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم، کہا جارہا ہے کہ اس کے خاندان والے نصرت پروین سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے لئے نتیش کمار ذمہ دار ہیں تو خاتون اس کی سزا کیوں بھگتے۔

اس واقعے نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے، اپوزیشن جماعتوں نے اسے خواتین کے وقار پر حملہ قرار دیا ہے۔ 

خاتون کے بھائی نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ میری بہن نے نوکری قبول نہ کرنے کا پختہ فیصلہ کرلیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ہم اسے بتا رہے ہیں کہ اگر کسی اور نے غلطی کی ہے تو وہ کیوں بھگتے؟ وہ کسی اور کی وجہ سے اپنا کیریئر کیوں ترک کرے؟ وہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔” ایک خبر یہ بھی ہے کہ لیڈی ڈاکٹر نے کولکتہ شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

پتہ چلا ہے کہ 15 دسمبر کو حجاب کھینچنے   کا معاملہ سامنے آنے کے  بعد ڈاکٹر نصر ت پروین نے سب سے پہلے اپنے بھائی کو فون کر کے واقعے کی اطلاع دی۔ کال کے دوران وہ جذباتی ہو ئیں۔ اس کے بھائی نے اسے کولکتہ آنے کو کہا، اور وہ اگلے دن کولکتہ پہنچ گئی۔ نصرت کہتی ہیں، میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ وزیر اعلی نے جان بوجھ کر کیا لیکن جو کچھ ہوا وہ مجھے پسند نہیں آیا۔ وہاں بہت سارے لوگ موجود تھے۔ کچھ ہنس رہے  تھے۔ ایک لڑکی ہونے کے ناطے یہ میری تو ہین تھی۔

نصرت نے کہا کہ میں نے اسکول سے کالج تک حجاب میں تعلیم حاصل کی۔ میں نے اسے ہر جگہ پہنا، چاہے وہ گھر ہو، بازار ہو یا مال۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ عوامی مقامات پر میں بے حجاب ہوئی ہوں۔ میرے والدین نے ہمیشہ مجھے گھر میں یہی سکھایا۔ حجاب ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میری غلطی کیا تھی۔ میں یہ نہیں کہ رہی ہوں کہ وزیر اعلی کی نیت خراب تھی لیکن انہوں نے جو کیا وہ انتہائی غلط تھا، مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ میرے دل و دماغ کو سکون نہیں ہے۔ اس دن کو یاد کر کے دل کانپ جاتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں آگے کیا کروں گی۔ پٹنہ میں میرے دوستوں نے بھی مجھے سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ مجھے ٹھہرنے کی تلقین کر رہے تھے لیکن میں اب وہاں پر سکون محسوس نہیں کر رہی ہوں۔ مجھے اب بھی بہت سے دوستوں کے فون آتے ہیں، مجھے دعوت دیتے ہیں لیکن مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ میں بڑی محنت سے یہاں تک پہنچی ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ اگر مجھے سرکاری نوکری مل جاتی ہے تو میں اپنے والدین کی مدد کروں گی۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کروں گی اور گھر کی تمام ذمہ داریاں بانٹوں گی۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ تھےجو کہتے تھے کہ اپنی بیٹی کو اتنی  تعلیم کیوں دے رہے ہو ؟ اسے حجاب میں رکھو ورنہ وہ تمہارے ہاتھوں سے پھسل جائے گی۔ لیکن میرے والدین نے سب کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے مجھے پڑھایا اور اس قابل بنایا۔ اس معاملے کو لے کر جب میں نے اپنے والد سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بیٹا اتنامت سوچو جو دل کہے وہی کرو۔ میرے بھائی نے بھی یہی کہا۔ میرا خاندان میرے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ میرے لئے بہت بڑی بات ہے۔


Share: