بنگلورو، 5/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)ریاستی وزیر برائے مالگزاری کرشنا بائرے گوڑا نے کہا ہے کہ حکومت کرناٹک کی جانب سے شروع کی گئی ’’بھُو سرکشا‘‘ مہم کا بنیادی مقصد کسانوں کو سرکاری دفاتر کے چکر سے نجات دلانا اور انہیں گھر بیٹھے زمین سے متعلق محفوظ دستاویزات کی آن لائن سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو بنگلورو اربن ضلع کے ڈپٹی کمشنر دفتر میں مہم کے تحت دستاویزات کی اسکیننگ اور ڈیجیٹلائزیشن کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ زمین سے متعلق اصل اور محفوظ دستاویزات میں گزشتہ کئی دہائیوں سے تحریف اور جعلسازی کے ذریعے کسانوں کا استحصال کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو سرکاری دفاتر اور عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑے اور وہ ذہنی اذیت کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھُو سرکشا‘‘ مہم کے تحت اب ایسے تمام ریکارڈس کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ یہ نظام شفاف اور قابلِ اعتماد بن سکے۔
ریاست بھر کے تحصیلدار دفاتر میں زمین سے متعلق تقریباً 100 کروڑ صفحات پر مشتمل دستاویزات موجود ہیں، جن میں سے 35.36 کروڑ صفحات کی اسکیننگ مکمل ہو چکی ہے، جب کہ باقی کام رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیر نے مزید کہا کہ یہ مہم صرف تحصیل دفاتر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اے سی (اسسٹنٹ کمشنر) اور ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) کے دفاتر میں موجود دستاویزات کو بھی مارچ 2026 تک ڈیجیٹل بنایا جائے گا۔
ان کے مطابق، فی الحال روزانہ تقریباً 10 ہزار صفحات اسکین کیے جا رہے ہیں، اور اس رفتار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ کسان اب سرکاری دفاتر کا رخ کیے بغیر آن لائن درخواست دے کر اپنے مطلوبہ دستاویزات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ جو لوگ آن لائن سہولت استعمال نہیں کر سکتے، وہ نزدیکی ناڈا کچہری کے ذریعے بھی دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں۔ تاحال ریاست بھر میں 4 لاکھ سے زائد دستاویزات عوام کو ڈیجیٹل طریقہ سے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ اس مہم کا ایک اور اہم مقصد زمین مافیا کی سرگرمیوں پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بنگلورو کے مضافاتی علاقوں میں بعض بدعنوان افسران کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کے ذریعے عوامی اراضی پر قبضے کیے گئے، جس سے حکومت کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور کئی مقدمات میں عدالتوں میں حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اب اس طرح کی جعلسازی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جعلی ریکارڈز کی فارنسک جانچ کرائی جائے گی، اور اگر ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا جائے گا۔
اس موقع پر محکمہ مالگزاری کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کٹاریہ، کمشنر ریونیو سنیل کمار اور بنگلورو اربن ضلع کے ڈپٹی کمشنر جی جگدیش بھی موجود تھے۔