بھٹکل 25 جولائی (ایس او نیوز): عقیدت، بھکتی اور جوش و خروش کے ساتھ دو روز تک جاری رہنے والا بھٹکل کا مشہور ماری جاترا جمعرات کو دیوی ماری کی وداعی (وسرجن) کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
شدید بارش کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند صبح ہی سے گروہوں کی شکل میں بھٹکل کے تاریخی ماریکامبا مندر پہنچے اور قطار میں کھڑے ہو کر دیوی ماری کی پوجا کی۔ عقیدت مندوں کی بھیڑ کو منظم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں رضاکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ مندر کے باہر پھل اور ناریل کی نذر چڑھانے کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے تھے۔
اس موقع پر مندر انتظامیہ کمیٹی کے صدر پرمیشور نائک، شری دھر نائک آسارکیری، سُریندر، شری پد کنچوگار، راما بلیگار، شانتا رام ، وینکٹیش نائک، دیپک نائک، وامن نائک اور دیگر ذمہ داران موجود تھے، جنہوں نے عقیدت مندوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ پولیس اہلکار بھی مخصوص مقامات پر تعینات رہے تاکہ بھیڑ کے دوران کسی طرح کی بدنظمی نہ ہو۔
مندر کے باہر سڑک کے کنارے پھولوں، میٹھے پکوانوں، کھلونوں اور مختلف قسم کی اشیاء کی دکانوں نے جاترا کو ایک خاص رنگ بخشا۔ پھولوں کے تاج، منتوں کی آنکھوں کی شکل والی اشیاء اور دیگر عقیدت سے جُڑی اشیاء کی خرید و فروخت جمعرات کو بھی جاری رہی۔
ماری دیوی کی وداعی کا شاندار جلوس
جمعرات شام 4:30 بجے مندر انتظامیہ کی جانب سے خصوصی پوجا کے بعد ماری دیوی کی وداعی کا جلوس شروع ہوا۔ بارش کی شدت کے باوجود نوجوانوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ ماری دیوی کے جلوس میں شریک رہے۔ ہر طرف سے "ماری کی جے" کے نعرے گونج رہے تھے۔ عقیدت مندوں نے ماری دیوی کے بھاری مجسمے کو کندھوں پر اٹھا کر جلوس کی شکل میں جالی سمندر کے ساحل تک لے گئے۔
ماریکامبا مندر سے جالی تک سڑک کے کناروں پر ہزاروں عقیدت مند، خاص کر خواتین اور بچے، قطاروں میں کھڑے ہو کر جلوس کا نظارہ کرتے دیکھے گئے۔ جالی ساحل پر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد دیوی ماری کو سمندر میں وسرجن کیا گیا۔
جلوس میں سابق رکن اسمبلی سنیل نائک، گووند نائک اور دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم. این. کی نگرانی میں ڈی وائی ایس پی مہیش، سی پی آئی دیواکر، اور سی پی آئی منجوناتھ لنگاریڈی کی قیادت میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔