ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو سانحہ: آئی پی ایل جشن میں بھگدڑ، 11 جاں بحق، حکومت کا عدالتی تحقیقات کا حکم اور 10 لاکھ معاوضے کا اعلان

بنگلورو سانحہ: آئی پی ایل جشن میں بھگدڑ، 11 جاں بحق، حکومت کا عدالتی تحقیقات کا حکم اور 10 لاکھ معاوضے کا اعلان

Thu, 05 Jun 2025 11:36:09    S O News

بنگلورو، 5 جون (ایس او نیوز): کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں آئی پی ایل فتح کے جشن کے دوران چِنّاسوامی اسٹیڈیم میں بھگدڑ کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں 11 افراد جاں بحق اور 47 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ریاستی حکومت نے اس افسوسناک واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے، اور مہلوکین کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سدارامیا نے بدھ کی شام ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت زخمیوں کے علاج کا مکمل خرچ برداشت کرے گی اور تمام زخمی اب خطرے سے باہر ہیں۔

وزیراعلیٰ نے واقعے کی مکمل عدالتی (مجسٹریٹ) تحقیقات کے احکامات جاری کرتے ہوئے افسران کو 15 دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سدارامیا کے مطابق، گزشتہ رات آئی پی ایل فائنل کے بعد ریاستی حکومت اور کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک بڑے عوامی جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چنّاسوامی اسٹیڈیم میں صرف 35 ہزار نشستوں کی گنجائش تھی، لیکن وہاں 2 سے 3 لاکھ افراد کے جمع ہونے کی اطلاع ہے، جس کی وجہ سے بدنظمی اور بھگدڑ مچ گئی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے بؤرنگ اور ویدیہی اسپتالوں کا دورہ کیا، جہاں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا: "ایسے خوشی کے موقع پر اس طرح کا سانحہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ جاں بحق افراد کی روح کو سکون ملے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و حوصلہ حاصل ہو۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ودھان سودھا کے سامنے بھی جلسہ ہوا تھا، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد موجود تھے، لیکن وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔"

اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار، وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، چیف سکریٹری شالینی رجنیش اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اپیل کی کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور متاثرین کی بحالی پر توجہ دی جائے۔


Share: