بچوں کے لہو سے جو کھیلے وہ دشمنِ انساں ہوتا ہے
نفرت کا زہر اگر پھیلے تو گھر گھرویران ہوتا ہے
کرناٹک کے ضلع بیلگاوی میں ساودتی تعلقہ کے ہولیکٹی گاؤں کی سرکاری اسکول میں ذہنی و اخلاقی طور پر زوال پذیر فرقہ پرست ذہنیت نے انسانیت کو شرمسار کر دیا، جب محض مذہبی تعصب کی بنیاد پر اسکول کے طلبہ کے پینے کے پانی میں زہر ملانے کی ناپاک کوشش سامنے آئی۔جس سے چونکا دینے والا یہ واقعہ صرف اس لیے پیش آیا کہ اسکول کے مسلم ہیڈ ماسٹر سلیمان گوری نایک کو بدنام کرتے ہوئے انہیں یہاں سے ہٹایا جائے۔ دورانِ تفتیش اس سفاکانہ حرکت کے پیچھے مبینہ طور پر شری رام سینا نامی تنظیم کے تعلقہ صدر اور دیگر کارکنان کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ساگر پاٹل، ناگنا گوڈا پاٹل اور کرشنا مادار کو حراست میں لے لیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بھی گدگ میں پاکستانی پرچم لہرانے کا ڈرامہ رچا کر فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے والے انہی عناصر کو بعد ازاں شری رام سینا کے کارکنان ہونے کے ناطے پولیس نے بے نقاب کیا تھا۔ ریاست بھر میں اس تنظیم کے خلاف پچاس سے زائد مجرمانہ مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہونے کے باوجود حکومت کی خاموشی اور ہوم ڈپارٹمنٹ کی غیر فعالیت نے ان شدت پسند عناصر کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں۔
یہ محض ایک ہیڈ ماسٹر یا ایک اسکول پر حملہ نہیں بلکہ بچوں کی زندگیوں کو نشانہ بنا کر پورے معاشرے کی بنیادیں ہلانے والی سوچ ہے۔ اسکول کے پانی میں زہر ملانا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ فرقہ وارانہ شدت پسندی اب انسانیت دشمنی کی اس حد تک جا پہنچی ہے جہاں معصوم بچوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتیں اسکولوں میں قومی یکجہتی، انسانیت اور بچوں کے محفوظ مستقبل کی بات کرتی ہیں، لیکن ایسے شدت پسند گروہوں کو برداشت کرنا ملکی سالمیت کے خلاف مجرمانہ خاموشی کے مترادف ہے۔ معصوم بچوں کو اپنی فرقہ وارانہ سیاست کا ایندھن بنانے والوں کے خلاف فوری اور بےلاگ کارروائی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا وہ مکروہ حد ہے جس کے بعد خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کا زہر اب صرف اشتعال انگیز نعروں، سوشل میڈیا مہمات یا سڑکوں پر نعرے لگانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اب معصوم زندگیاں نگلنے کا ارادہ کر لیا ہے۔
شری رام سینا، جس کا قیام 2005 میں کرناٹک کے شہر ہبلی میں عمل میں آیا، دیکھتے ہی دیکھتے ہندو شدت پسندوں کے ایسے گروہ میں تبدیل ہو گئی جس کا بنیادی مقصد اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف تشدد کو معمول بنانا، خوف کا ماحول پیدا کرنا اور معاشرتی ہم آہنگی کو درہم برہم کرنا تھا۔ 2008 میں چرچ حملوں، 2009 میں مینگلور کے پب حملے، خواتین پر تشدد، مسلم نوجوانوں کے خلاف جھوٹی ویڈیو مہمات، لو جہاد کے نام پر غنڈہ گردی اور پیسے کے عوض فرقہ پرستی کو فروغ دینے جیسی سرگرمیاں اس تنظیم کا ماضی رہی ہیں۔ اس کے بانی پرمود متالک خود کو مذہبی رہنما قرار دیتے ہیں مگر درحقیقت شدت پسندی اور اشتعال انگیزی کی علامت ہیں جن کے خلاف گزشتہ دو دہائیوں میں درجنوں مقدمات درج ہوئے، لیکن وہ ہر بار سیاسی پس پردہ حمایت اور قانونی خلا کا فائدہ اٹھاکر بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ میڈیا سرخیوں کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کرنا اور تہواروں کو تنازعات میں بدل دینا ان کی آزمودہ حکمتِ عملی رہی ہے۔
بیلگاوی کا حالیہ واقعہ محض مجرمانہ واردات نہیں بلکہ فرقہ وارانہ نفرت کا نیا ماڈل ہے جس میں روایتی ہتھیاروں کی بجائے آبی ٹینک میں زہر گھول کر معصوم بچوں کی جانیں داؤ پر لگائی گئیں۔ اسکول جیسی مقدس درسگاہ، جہاں علم امن و انسانیت کا درس دیا جاتا ہے، وہاں زہر ملانا بتاتا ہے کہ مذہب کے نام پر انتقام لینے والی ذہنیت اب اپنی حدوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ریاست میں کانگریس حکومت برسر اقتدار ہے جو خود کو سیکولر شبیہ کی حامل کہتی رہی ہے، یہ سانحہ اس حکومت کے عملی کردار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ریاستی سطح پر انسدادِ فرقہ پرستی فورس قائم ہونے کے باوجود ہولیکٹی جیسے واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ فورس عملی طور پر کاغذی وجود سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر اسکول جیسے حساس ادارے بھی محفوظ نہ رہیں تو سیکورٹی نظام کی ساکھ خود بخود مجروح ہو جاتی ہے۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے سماج اور سیاست کی ان بدلی ہوئی نفسیات پر سوال اٹھائیں جہاں بچوں کی جانیں دشمنی کا سب سے آسان ہدف بنتی جا رہی ہیں۔ کیا فرقہ وارانہ نفرت کی آگ واقعی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ننھے بچوں کے خون سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ اس اسکول میں صرف ہیڈ ماسٹر کی برادری کے بچے ہی نہیں بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی زیر تعلیم تھے؟ اگر اس واردات کا مقصد کسی مخصوص فرد کو نشانہ بنانا تھا تو کیا زہر گھولنے والوں نے اپنے مذہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کی زندگیاں بھی داؤ پر نہیں لگا دیں؟ ایسے خوفناک جرم کے بعد کیا ریاستی حکومت اور انتظامیہ کا ردعمل اتنا مضبوط ہے کہ آئندہ کوئی اس طرح کی حرکت کرنے سے قبل دس بار سوچے؟ کیا سری رام سینا پر اسی طرح پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے جیسے دیگر انتہا پسند جماعتوں پر لگائی گئی؟ کیا کانگریس حکومت اپنی سیکولر شبیہ کے تحفظ کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے گی یا سب کچھ محض بیانات تک محدود رہے گا؟ اور کیا ہم ایک ایسے ہندوستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں اسکول کے بچے بھی مذہبی نفرت کے شکار ہوں گے؟
اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ مذہبی تفریق کی جڑیں اسکولوں تک پہنچ چکی ہیں اور بچے نفرت کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ معاشرتی خوف کے ذریعے تعلیمی ترقی روکنے کی کوشش ہو رہی ہے، کمزور عدالتی کارروائیاں ایسے عناصر کو حوصلہ دیتی ہیں جبکہ سوشل میڈیا نفرت کے زہریلے نظریات کو مزید فروغ دیتا جا رہا ہے۔ یہ سوچ اگر آج نہ رکی تو آنے والی نسلوں کی ذہنی و جسمانی ساخت اسی زہر کا شکار ہو گی۔
فرقہ وارانہ شدت پسندی کو دہشت گردی جتنا سنگین جرم سمجھ کر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ سری رام سینا جیسے گروہوں پر پابندی، پرمود متالک کے نقل و حرکت پر قدغن، اور ایسے ملزمان کو فوری و عبرتناک سزا دینا نہ صرف عدل کا تقاضا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے تحفظ کا وعدہ بھی۔ اسکول کے پانی میں زہر ملانا ایک وقتی حرکت نہیں بلکہ سوچا سمجھا فکری حملہ تھا جو مستقبل کی نسل کو ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کرنے کے ارادے سے کیا گیا۔ اگر تعلیمی ادارے، جہاں روشنی، امن اور بھائی چارے کا سبق پڑھایا جاتا ہے، انہی کے اندر نفرت کا زہر گھولا جائے تو سماج کی بنیادیں کہاں محفوظ رہتی ہیں۔ معصوم بچوں کی جانوں سے کھیلنے والی یہ ذہنیت صرف قانون شکنی نہیں بلکہ انسانیت سے بغاوت ہے، اگر ہم نے آج مذہب کے نام پر نفرت کا یہ زہر پھیلانے والوں کو روکا نہیں تو کل یہی نفرت ہمارے گھروں اور اداروں کو کھوکھلا کر دے گی۔
سری رام سینا کی سوچ دراصل ہندوستان کی ان روایات پر حملہ ہے جو ہزاروں برسوں سے مختلف مذہبی روایات کو ساتھ لے کر چلنے کا سبق دیتی ہیں۔ بیلگاوی کا سانحہ ایک گاؤں کی خبر نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے انتباہ ہے کہ فرقہ وارانہ ذہنیت اب مسجد و مندر سے نکل کر درسگاہوں تک پہنچ چکی ہے۔ اگر آج اس سوچ کو لگام نہ دی گئی تو کل کون سا علاقہ، کون سا ادارہ یا کون سا بچہ محفوظ رہے گا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب بحیثیت ذمہ دار شہری اس نفرت کے خلاف آواز بلند کریں کہ بچوں کے ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے، زہر آلود پانی کا گلاس نہیں۔ نفرت کے سوداگروں نے اب معصومیت سے جنگ چھیڑ دی ہے، ایسے میں صرف مذمت کافی نہیں بلکہ حکومت کو قانونی بندوبست، تیز ترین انصاف، اور سخت پابندیوں کے ذریعے یہ پیغام دینا ہو گا کہ کرناٹک کی زمین پر بچوں کی جانوں سے کھیلنے والی کسی تنظیم کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ آج ہولیکٹی کے اسکول میں نفرت نے پانی کو زہر میں بدلا ہے، اگر اس سوچ کا سدباب نہ کیا گیا تو کل کسی اور گاؤں میں، کسی اور درخت کے سائے تلے، کوئی اور بچہ اس نظریاتی جنگ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نفرت کے ہر مرکز کو — چاہے وہ افراد ہوں یا نظریات — قانون کے دائرے میں لا کر سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس درندگی کا راستہ اختیار نہ کرے۔
کھیلیں گے ہم لہو سے مگر بچّوں کے روبرو
اتنی بھی کربناک نہ ہو رسمِ دشمنی
( مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)