نئی دہلی ، 4/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)سپریم کورٹ نے ملک کے ججوں کے لیے اپنی نئی گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ اس ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ’’عصمت ریزی اور جنسی ہراسانی کے معاملے میں فیصلہ لکھنے کے وقت ججوں کو صنفی دقیانوسی تصورات اور متاثرہ کو مجرم قرار دیے جانے والی زبان کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ کورٹ کو ایسے معاملات میں زیادہ حساس اور متاثرہ پر توجہ مرکوز کرنے والا نظریہ اپنانا چاہیے۔‘‘ کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی یہ تجویز سپریم کورٹ کے سابق جج انیرودھ بوس کی قیادت والی ایک خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ ہے۔ ’ججمنٹس اینڈ جینڈر: سینسٹیویٹی اینڈ کمپیشن ان رائٹنگ ججمنٹس‘ نام کی یہ رپورٹ ملک کے ٹرائل کورٹ کے 125 فیصلوں کی جانچ کے بعد تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں غیر جانبدار اور حساس عدالتی عمل کے لیے ججوں کی باقاعدہ تربیت اور حساسیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
کمیٹی نے ججوں سے کہا ہے کہ ’’وہ ’پراسیکیوٹرکس‘ (عرضی گزار خاتون)، ’بے بس عورت‘، ’اپنی عفت کھو دی‘ یا ’حدیں پار کیں‘، جیسے الفاظ استعمال کرنا بند کریں۔‘‘ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے الفاظ دقیانوسی تصورات پر مبنی ہیں اور متاثرہ کو دوبارہ صدمے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس کی جگہ کورٹ کو غیر جانبدار اور قانونی طور پر درست الفاظ کا انتخاب کرنا چاہئے، اور متاثرہ، بچ جانے والی متاثرہ، شکایت کنندہ، جنسی زیادتی کا شکار اور جسمانی خود مختاری جیسی اصطلاحات استعمال کی جانی چاہئیں۔ ساتھ ہی یہ بھی مشورہ دیا کہ ’’بے چاری بے بس نابالغ لڑکی، ہوس کا شکار، ناجائز ہوس پوری کرنا، بچپن برباد کیا اور زندگی برباد کر دی جیسے الفاظ کی جگہ ایسے الفاظ کا استعمال کیا جائے جو اخلاقی فیصلوں کی جگہ جرم اور اس کے اثرات پر توجہ دیتے ہیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ’’پاکی، شرم، ہچکچاہٹ اور عزت جیسے الفاظ پرانی فکر کو ہوا دیتے ہیں، جو خاتون کے وقار کو اس کی جنسی پاکیزگی یا اہل خانہ کی عزت سے جوڑتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عدالتی استدلال رضامندی، وقار، جسمانی حقوق اور آئینی حقوق پر مبنی ہونے چاہئیں۔ کمیٹی نے ججوں کو جنسی ہراسانی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران روایتی اور دقیانوسی سوچ پر انحصار نہ کرنے کی بھی تنبیہ کی۔ اس میں کہا گیا کہ عدالت کو صرف اس بنیاد پر غلط نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ متاثرہ خاتون نے رپورٹ درج کرانے میں تاخیر کی، یا اس نے جسمانی مزاحمت نہیں کی، یا پھر اس کے جسم پر زخم کے نشانات موجود نہیں تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چوٹ کے نشان نہ ہونا، رپورٹ میں تاخیر یا مزاحمت نہیں کرنے کا مطلب رضا مندی نہیں ہوتی۔ متاثرہ کی کوئی اور پریشانی بھی ہو سکتی ہے۔
کورٹ نے خبردار کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں متاثرین کے رویے کے بارے میں حد سے زیادہ قدامت پسندانہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔ اس نے ججوں سے یہ بھی کہا کہ عصمت دری کو ایسے معاملات میں ’جسمانی تعلق‘ نہیں کہا جانا چاہئے، جس میں رضامندی نہ ہو یا نابالغ متاثرین شامل ہوں۔ اس کے بجائے عدالت کو قانونی طور پر درست اصطلاحات استعمال کرنی چاہئیں، مثلاً ریپ، جنسی حملہ، یا جنسی تشدد۔ رپورٹ میں ہوس جیسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے، اور کہا گیا کہ جنسی جرائم کو ہوس سے محرک عمل قرار دینے سے مردوں کی جنسی جارحیت کو معمول کی بات سمجھ لیا جاتا ہے اور جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ججوں کو توہین آمیز یا ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے والی جرح یعنی کراس ایگزامینیشن کو سختی سے روکنا چاہیے، خاص طور پر ایسے سوالات کو جو مبینہ جرم سے پہلے متاثرہ شخص کی جنسی زندگی، لباس یا رویے سے متعلق ہوں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی خاتون کو صرف اس کے لباس کی بنیاد پر پرکھنا یا اس کے کردار یا شائستگی کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا ناقابل معافی اور ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ججوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عدالت کے اندر متاثرین کے ساتھ احترام سے پیش آیا جائے۔ یہ خصوصی کمیٹی 10 فروری 2026 کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد بنائی گئی تھی۔ اس فیصلے میں جسمانی جرائم اور کمزور لوگوں سے وابستہ دیگر معاملوں کو دیکھنے والے ججوں کے درمیان حساسیت اور ہمدردی کو فروغ دینے کے لیے جامع رہنما خطوط کا مطالبہ کیا گیا۔