سڈنی 14/ڈسمبر (ایس او نیوز/اے ایف پی): آسٹریلیا کے عوام نے اتوار کو اس شخص کو خراجِ تحسین پیش کیا جس کی بروقت مداخلت نے سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہونے والی اجتماعی فائرنگ کے دوران ایک مسلح حملہ آور کو روکنے میں مدد دی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے ممکنہ طور پر کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔ یہ واقعہ حالیہ برسوں میں آسٹریلیا کی بدترین اجتماعی فائرنگ میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بونڈی بیچ پر فائرنگ کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں ایک شخص کو اس وقت ایک حملہ آور کو پکڑتے ہوئے دیکھا گیا جب وہ عام شہریوں پر فائرنگ کر رہا تھا۔
ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ شخص حملہ آور سے اسلحہ چھین لیتا ہے اور بندوق اس کی طرف تان دیتا ہے، جس کے بعد حملہ آور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
اسٹریلیا کے نیوز چینل 7 نیوز نے اس شخص کی شناخت 43 سالہ احمد ال احمد کے طور پر کی ہے، جو پیشے کے اعتبار سے فروٹ سیلر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ فائرنگ کے دوران دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔
چینل نے مصطفیٰ نامی ایک شخص سے بھی بات کی، جس نے بتایا کہ احمد اس کا کزن ہے۔
مصطفیٰ نے کہا، “وہ اسپتال میں ہیں اور ہمیں ابھی پوری طرح معلوم نہیں کہ اندرونی طور پر ان کی حالت کیسی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہمیں امید ہے کہ وہ خیریت سے ہوں گے اور وہ سو فیصد ہیرو ہیں۔”
سوشل میڈیا پر احمد ال احمد کو ان کی بہادری اور بروقت فیصلے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ انہیں کئی جانیں بچانے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیزی نے بھی احمد اور دیگر افراد کو “ہیروز” قرار دیتے ہوئے ان کی جرأت کی تعریف کی۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں نے 11 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا۔ پولیس نے اس واقعے کو یہودی برادری کو نشانہ بنانے والا “دہشت گردانہ” حملہ قرار دیا ہے