بھٹکل ، 18/ جنوری (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے توسیعی کام پورا کرنے کے سلسلے میں بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھٹکل سٹیزنس فورم کے قائدین اور مقامی نمائندوں کے ساتھ میٹنگ ہوئی ، جس میں موڈ بھٹکل بائی پاس اور مرڈیشور بستی کے قریب انڈر پاس کی تعمیر اور بھٹکل شہر میں قومی شاہراہ کے نامکمل کام پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر نینا نے کہا کہ ہائی وے کا کام نامکمل ہونے کی وجہ سے ہائی وے پر حادثات ہو رہے ہیں اور بنیادی ضرورت کے پیش نظر کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا اس کام کو مکمل کرنے میں عوام کا تعاون ضروری ہے ۔
اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سٹیزنس فورم کے صدر ستیش کمار اورنیشنل ہائی وے ہوراٹا سمیتی کے لیڈر راجیش نائک نے کہا کہ نیشنل ہائی وے کا کام شروع ہوئے 10 سال گزر چکے ہیں ۔ ابھی تک ٹھیکیدار کمپنی عوام کو درکار بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ محکمہ کے ناقص کام کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ہائی وے پر پیش آنے والے حادثات کی وجہ سے کئی اموات ہوئی ہیں اور متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں ۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے آئی آر بی ٹھیکیدار کمپنی اور نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔
اس کے جواب میں اے سی ڈاکٹر نینا نے کہا کہ مرڈیشور بستی اور موڈ بھٹکل بائی پاس کے قریب انڈر پاس کی تعمیر ضروری ہونے کا مسئلہ حکومت کے علم میں ہے ۔ اس سلسلے میں ایک تجویز پہلے ہی مرکزی حکومت کو بھیجی جا چکی ہے ۔ لیکن بنیادی ضرورت یہ ہے کہ انڈر پاس کی تجویز کو منظوری ملنے سے قبل ہائی وے کا کام مکمل کر لیا جائے ۔ اس لئے عوام سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے ہائی وے کے کام کو مکمل کرنے میں تعاون کریں ۔
اس پر میٹنگ میں موجود مٹھلی گرام پنچایت کی صدر مسز رجنی وینکٹرامنا نائک نے اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ گاؤں والے کس وجہ سے اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے مقامی عوام کی طرف سے انڈر پاس کا مطالبہ ہو رہا ہے مگر اب تک اسے نظر انداز کیا گیا ہے ۔ محکمہ نے چھ سال قبل انڈر پاس کے بارے میں تجویز پیش کی تھی ۔ ابھی تک اسے منظوری نہیں ملی ۔ دو سال پہلے ایک بار پھر ایک تجویز پیش کی گئی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ منظوری کے مراحل میں ہے ۔ رجنی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام اس طرح زبانی یقین دہانیوں پربھروسہ نہیں کر سکتے۔
جالی پٹن پنچایت کے نائب صدر ایڈوکیٹ عمران لنکا نے کہا کہ نیشنل ہائی وے ہماری جالی پٹن پنچایت کے علاقے سے گزرتا ہے ۔ پینے کے پانی کا نظام، یو جی ڈی پائپ لائن کے علاوہ ہائی وے کے اطراف سے بارش کے پانی کی نکاسی کا انتظام موجود ہے ۔ ان تمام کاموں کے بارے میں ہائی وے ڈپارٹمنٹ یا ٹھیکیدار کمپنی نے اب تک ٹاؤن پنچایت کے افسران، یا منتخب عوامی نمائندوں سے رابطہ نہیں کیا ہے ۔ عوام کو اندھیرے میں رکھ کر ان کی اپنی مرضی کے مطابق کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہائی وے کے غیر سائنسی تعمیراتی کام کی وجہ سے سڑک سے ملحقہ علاقوں میں بسنے والے بارش کے موسم میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں ۔
بھٹکل میونسپلٹی کے نائب صدر الطاف کھروری نے کہا کہ محکمہ نے ہائی وے پر گزرنے والے پانی کی نکاسی کے نظام کو مکمل طور پر خراب کر دیا ہے ۔ شاہراہ کے کناروں پر موجود اسٹریٹ لائٹس ہٹائی گئی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ شاہراہ کے نامکمل کام کی وجہ سے برسات کا پانی صحیح طریقے سے بہہ نہیں رہا ہے اور دریا میں شامل ہونے کے بجائے شہر میں داخل ہو رہا ہے ۔
تنظیم کے صدر عنایت اللہ شابندری نے کہا کہ ہائی وے حکام اور ٹھیکیدار کمپنی نے عوام کو اعتماد میں نہ لیتے ہوئے اپنے من چاہے طریقے پر کام جاری رکھا جس کی وجہ سے ہی عوام پریشانیوں کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اگر اضافی کاموں اور ضروری کاغذی کارروائیوں کو احساس ذمہ داری کے ساتھ کیا جاتا تو اب تک اسے منظوری مل گئی ہوتی اور کام بھی مکمل ہو جاتا ۔ لیکن قوت ارادی کی کمی کی وجہ سے کام لنگڑے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے ۔
ستیش کمار نے کہا کہ نیشنل ہائی وے کا ٹاون علاقے میں جو منظور شدہ کام ہے، اسے ٹھیکیدار کمپنی کی طرف سے پورا کرنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ لیکن عوام کے لیے بنیادی سہولیات جیسے کہ ہائی وے کے اطراف میں بارش کے پانی کے نالے، یو جی ڈی سسٹم، اور سروس روڈز کی تعمیر کے بعد ہی ہائی وے کے بقیہ کام کو انجام دینے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ ستیش کمار نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرا دھمکا کر کام نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولتیں فراہم کیے بغیر صرف ہائی وے کا کام مکمل کرنے کا خیال چھوڑ دیا جائے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی وجہ سے عوام کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں دیں گے ۔
تمام دلائل سننے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر نینا نے کہا کہ بنیادی سہولتوں کے مسئلے سے متعلق کاغذی کارروائی کا مسئلہ صرف 15 دن کے اندر حل کرنے کے بعد ہائی وے کا کام شروع کیا جائے گا تو عوام کا اعتماد حاصل ہوگا ۔ چنانچہ کاغذی کارروائی جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تحصیلدار کی قیادت میں ایک وفد تشکیل دیا گیا ۔ اس طرح انڈر پاس سے متعلق کاغذات کو بہت جلد نمٹانے اور مزید کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
میٹنگ میں ہائی وے ڈپارٹمنٹ کے افسران، آئی آر بی ٹھیکیدار کمپنی کے افسران، مٹھلی گرام پنچایت سکریٹری، ماولی پنچایت سکریٹری کے علاوہ عوام کی جانب سے سٹیزنس فورم کے نمائندے، جئے رام شانبھاگ، ایس ایم نائک وغیرہ موجود تھے ۔