اڈپی، 28 / ستمبر (ایس او نیوز) ملپے پولیس اسٹیشن کے حدود میں کل سنیچر کو پیش آئے ہوئے پرائیویٹ بسوں کے مالک سیف الدین کے قتل میں ملوث تین ملزمین کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کی جانب سے دی گئی اطلاع کے مطابق گرفتار شدہ ملزمین کی شناخت محمد فیصل خان (27 سال)، محمد شریف (37 سال) اور عبدالشکور کے طور پر کی گئی ہے ۔ یہ تینوں ملزمین سیف الدین کے بزنس میں ساتھ دینے والے افراد ہیں۔
اتراڈی کے رہنے والے سیف الدین کے تعلق سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق 1990 کی دہائی میں اُس وقت کی جنتا دل پارٹی میں لیڈر کے طور پر پہچانے جانے والے عبدالقادر نے اپنی سرپرستی میں پنڈلیک نائیک نامی شخص کو غنڈہ گردی کے میدان میں آگے بڑھایا تھا ۔ پنڈلیک نائیک اتراڈی علاقے میں بے خوفی کے ساتھ حملہ کرنے دھمکیاں دینے اور قاتلانہ حملوں کے لئے اپنی خوفناک پہچان بنانے والے نے آگے چل کر اپنے گرو عبدالقادر کے خلاف ہی کھڑا ہوگیا۔
اسی پس منظر میں عبدالقادر کے بیٹے سیف الدین نے مبینہ طور پر 1997 میں ایک دن بیچ سڑک پر ہی پنڈلیک نائیک کو قتل کر ڈالا تھا ۔ اس طرح مبینہ طور پر غنڈہ گردی یا راوڈی ازم کی کالی دنیا میں قدم رکھنے والے سیف الدین کے جرائم کی فہرست میں اضافہ ہوتا گیا اور دھمکیاں دینے ، قتل کی کوشش اور تین قتل کی وارداتوں کے ساتھ 20 سے زیادہ معاملے اس کے نام کے ساتھ جڑ گئے اور وہ ایک نامی راوڈی شیٹر کے طور پر مشہور ہوگیا۔
معلوم ہوا ہے کہ ممبئی بار کے مالک اتر پردیش کے وششھٹ ستیہ نارائین یادو کا 10 فروری 2020 میں جو قتل ہوا تھا اس میں سیف الدین کلیدی ملزم تھا جبکہ اس کے ساتھی ملزمین میں جنتا کالونی کے شریف، جوکٹے کے اویناش کرکیر اور عبدالشکور شامل تھے ۔
اب جرائم کی دنیا میں سیف الدین کا ساتھ نبھانے والے ملزمین نے ہی اسے مبینہ طور موت کے گھاٹ اتار دیا اور اتراڈی سیف الدین کے والد کی جانب سے شروع ہونے والا جرائم کی دنیا کا ایک باب ختم ہوگیا۔
سیف الدین کی نماز جنازہ اتراڈی کی مسجد میں ادا کی گئی جہاں ہزاروں لوگوں نے اس کا آخری دیدار کیا اور جلوس جنازہ میں شریک ہوئے۔