ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنٹوال میں مسلم نوجوان کے قتل کے بعد مچے بھوال پر کانگریس سرکارنے لئے بڑے فیصلے؛ ساحلی کرناٹک میں خصوصی فورس تشکیل

بنٹوال میں مسلم نوجوان کے قتل کے بعد مچے بھوال پر کانگریس سرکارنے لئے بڑے فیصلے؛ ساحلی کرناٹک میں خصوصی فورس تشکیل

Fri, 30 May 2025 02:10:05    S O News
بنٹوال میں مسلم نوجوان کے قتل کے بعد مچے بھوال پر کانگریس سرکارنے لئے بڑے فیصلے؛ ساحلی کرناٹک میں خصوصی فورس تشکیل

بنگلورو 29 مئی (ایس او  نیوز) مینگلور کے قریب بنٹوال میں مسلم نوجوان عبدالرحمن کے بیہمانہ قتل کے بعد ایک طرف مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے، وہیں کانگریس کے مسلم قائدین نے ایک ساتھ استعفیٰ دے کر پارٹی کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے جس کے ساتھ ہی ریاست کی کانگریس سرکار بھی حرکت میں آگئی ہے اور ساحلی کرناٹکا کے اضلاع جنوبی کنڑا، اُڈپی اور  پڑوسی ضلع شموگہ میں فرقہ وارانہ قتل، نفرت انگیز تقاریر، غیر قانونی گروہی کاروائیوں اور پے در پے پرتشدد واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے  نکسل مخالف فورس (ANF) کے طرز پر ایک نئی خصوصی ٹاسک فورس (STF) تشکیل دی ہے۔

اس خصوصی فورس میں کل 248 اہلکار شامل ہوں گے، جس کی قیادت ایک ڈی آئی جی رینک کے افسر کریں گے۔ یہ فورس تینوں اضلاع میں تعینات کی جائے گی، جس میں ایک ڈی وائی ایس پی، ایک اسسٹنٹ کمانڈنٹ، کئی انسپکٹرز، سب انسپکٹرز، اور 165 دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق، متعلقہ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور پولیس کمشنر کو اس فورس کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ فورس علاقائی آئی جی پی کے براہِ راست ماتحت ہوگی۔

ایس ٹی ایف کی اہم ذمہ داریاں:
میڈیا اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی اور خفیہ معلومات اکٹھا کرنا۔
تکنیکی خفیہ سیل قائم کرنا۔
خفیہ ذرائع سے معلومات حاصل کر کے ممکنہ فرقہ وارانہ جھگڑوں کی پیشگی روک تھام۔
عوامی اعتماد کی بحالی اور بنیاد پرستی پر نظر رکھنا۔

یہ فورس ANF کی 667 پوزیشنوں میں سے 248 کو منتقل کرکے بنائی گئی ہے، جبکہ باقی اہلکار تین سال تک نکسل مخالف مہمات میں شامل رہیں گے۔

اس دوران وزیراعلیٰ سدارامیا نے ایم ایل سی بی کے ہری پرساد سے ملاقات کے بعد واضح کیا کہ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے والوں کے خلاف، چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ مینگلور اور ساحلی علاقوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بحال ہونی چاہیے۔


Share: