نئی دہلی ،20؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)کانگریس صدر کے انتخاب سے قبل 6ریاستوں کی کانگریس کمیٹیوں نے پارٹی کی کمان راہل گاندھی کو سونپنے کی قرارداد منظور کی ہے۔ حال ہی میں، مہاراشٹر، بہار اور تمل ناڈو کانگریس کمیٹیوں نے اس کی قرارداد منظور کی، جبکہ راجستھان، گجرات اور چھتیس گڑھ پہلے ہی اسے منظور کر چکی ہیں۔ کانگریس صدر کے انتخاب کا نوٹیفکیشن 23ستمبر کو جاری کیا جائے گا، جب کہ انتخاب 17اکتوبر کو تجویز کیا گیا ہے۔اس وقت سونیا گاندھی کانگریس کی عبوری صدر ہیں جبکہ سابق صدر راہل گاندھی نے الیکشن لڑنے کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا ہے لیکن یہ صاف کردیاہے کہ وہ صدارتی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ اسی وجہ سے اب تک پارٹی کے اندر صدر کے عہدے کیلئے کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔بھارت جوڑو یاترا کے دوران 9ستمبر کو تمل ناڈو میں پریس کانفرنس کے دوران راہل نے کہا تھا کہ آیا وہ الیکشن لڑیں گے یا نہیں، اس پر بعد میں بات کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں نے اس پر اپنا فیصلہ لے لیا ہے، اب میرے ذہن میں کوئی الجھن نہیں ہے۔ اگر میں نے الیکشن نہیں لڑا تو وجہ بھی بتا دوں گا۔
کانگریس میں صدر کون،3 نام سامنے
سونیا گاندھی- جب راہل نے 2019 میں کرسی چھوڑی تو پارٹی میں کسی اور لیڈر کے نام پر متفق نہ ہونے کے بعد سونیا کو کمان سونپی گئی۔ سونیا اب بھی پارٹی صدر ہیں۔ پرانے اور نئے قائدین کے درمیان اتفاق رائے کی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ 2024تک کرسی ان کے پاس رہے گی۔
راہل گاندھی- کانگریس صدر کی دوڑ میں راہل گاندھی کا نام سب سے آگے ہے۔ حالانکہ راہل خود کئی بار پارٹی صدر بننے سے انکار کر چکے ہیں۔ پارٹی صدر بننے سے پہلے راہل کانگریس تنظیم کے جنرل سکریٹری اور نائب صدر رہ چکے ہیں۔
اشوک گہلوٹ: گاندھی خاندان سے کوئی بھی صدر نہ بننے کی صورت میں اشوک گہلوٹ کو کانگریس کی کمان مل سکتی ہے۔ گہلوٹ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں۔ پارٹی کا بڑا او بی سی چہرہ ہونے کے علاوہ انہیں تنظیم کا کافی تجربہ بھی ہے۔