نئی دہلی، 31/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) ’’تشدد کی آگ میں جل رہے منی پور کے لیے مرکز کے ذریعہ اعلان کردہ معاوضہ کا پیکیج صرف ایک ڈرامہ ہے اور یہ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے جیسا کام ہے۔‘‘ کثیر تعداد میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود بدامن منی پور میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے سفر کو صرف ڈرامہ قرار دیتے ہوئے یہ بات منی پور کانگریس کمیٹی چیف کیشم میگھ چندر نے کہی۔
مرکزی حکومت نے منی پور میں نسلی تشدد میں مارے گئے لوگوں کے کنبوں کے لیے منگل کو 10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے تشدد متاثرہ چراچاندپور ضلع کے دورہ پر کیا گیا ہے۔ منی پور کا یہی ضلع ککی اور میتئی کے درمیان نسلی تشدد کا مرکز رہا ہے۔
منی پور کے حالات پر کانگریس نمائندہ وفد نے منگل کو ہی صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کر عرضداشت سونپا ہے۔ اس نمائندہ وفد میں شامل منی پور کانگریس چیف کیشم میگھ چندر سنگھ نے نیشنل ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب تک امن بحال نہیں ہو جاتا، تب تک کسی بھی وزیر یا یہاں تک کہ وزیر اعظم کے دورے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ 3 مئی کے تشدد کے بعد سے ریاست میں میتئی اور ککی طبقہ کے درمیان عدم اعتماد مزید گہرا ہو گیا ہے۔ ایسے میں مرکز کو منی پور میں امن بحال کرنے کے لیے عارضی حل کی جگہ ایک پالیسی بنانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آخر مرکزی حکومت نے منی پور پر کوئی بھی قدم اٹھانے میں اتنا وقت کیوں لگایا؟ منی پور صرف 37 لاکھ کی آبادی والی چھوٹی ریاست ہے۔ ایسے میں اگر مرکز نے وقت رہتے قدم اٹھایا ہوتا تو اب تک حالات معمول پر ہو گئے ہوتے۔‘‘
میگھ چندر نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت دونوں نے حالات کو قابو سے باہر جانے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج بھی جب امت شاہ ریاست کا دورہ کر رہے تھے تو بھی لوگوں نے مجھے فون کر بتایا کہ ککی شورش پسندوں نے ان پر حملہ کیا ہے۔‘‘ میگھ چندر کو لگتا ہے کہ میانمار کے ککی شورش پسند نے ریاست میں تشدد پھیلانے اور میتئی طبقہ کو نشانہ بنانے کے لیے جدید اسلحوں کے ساتھ سرحد پار کر منی پور میں گھسے ہیں۔
اس سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں کانگریس پارٹی کے ایک نمائندہ وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی اور فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے انھیں ایک عرضداشت پیش کیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’تشدد کے شروعاتی مراحل میں حالات سنبھالنے میں کئی خامیاں تھیں۔‘‘ کانگریس نے پورے حالات کی سپریم کورٹ کے موجودہ جج یا سبکدوش جج کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے مشورے دیے مثلاً:
مرکزی حکومت کو فوراً سبھی دہشت گرد گروپوں کو کنٹرول کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کے سبھی ممکن طریقے کرنے چاہئیں اور یہ یقینی کرنا چاہیے کہ سبھی مسلح شہری گروپوں کو مناسب کارروائی کر کے فوراً روکا جائے۔
ریاستی حکومت فوراً سبھی راحت کیمپوں کا مینجمنٹ اور رکھ رکھاؤ اپنے ہاتھ میں لے اور سبھی کے لیے مناسب صحت اور صاف سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔
کانگریس نے راحت کیمپوں میں راحتی اشیا تقسیم کرنے میں بدانتظامی کے لیے منی پور کی بیرین سنگھ حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس ایک ذمہ داری اپوزیشن پارٹی کی شکل میں منی پور میں امن، معمول والی حالت اور خیر سگالی بحال کرنے کے لیے کسی بھی پیش قدمی کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘