نئی دہلی28نومبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) عدلیہ نے ماہ بھر میں تیسری بار پدماوتی پر پابندی کی درخواست مسترد کر دی ہے ؛ بلکہ عدلیہ نے ریاستوں کے وزیر اعلی اور دیگر شر پسند ٹولہ پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ جو فلم کو دیکھے بغیر ہی اپنی رائے قائم کر رہے ہیں ۔ عدلیہ نے یہ بھی کہہ دیاکہ عوامی دفاتر میں بیٹھے اشخاص کو اس مسئلہ پر تبصرہ آرائی نہیں کرنی چاہئے ۔ حتی کہ عدلیہ نے تلخ بھرے لہجے میں کہا کہ عوامی دفاتر اور مقامات پر جو لوگ اس مسئلہ پر بات کر رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ تبصرہ آرائی سے باز آئیں ۔ عدلیہ نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سینسر بورڈ میں بیٹھے ہوئے عہدیدارن کے ذہن میں جانبداری کا عنصر پیدا ہوسکتا ہے ۔ عدلیہ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بھی شخص اس کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ قانون کی بالادستی کے خلاف قدم بڑھا رہا ہے، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ( عدلیہ ) قانون کی بالادستی کے تحفظ کیلئے مقرر ہوئے ہیں ۔ عدلیہ نے یہ بھی کہا کہ جب سی بی ایف سی میں مقدمہ زیر التواء ہے تو ذمہ دار افراد کو عوامی مقامات پر رائے زنی اور تبصرہ آرائی سے گریز کرنا چاہئے ؛کیونکہ سینسر بورڈ قانون سازی کے تحت کام کرتا ہے ۔ عدلیہ نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم امیدوار ہیں کہ تمام متعلقہ افراد قانون پر عمل پیرا ہوں گے ۔ وہیں فلم ساز سنجے لیلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ وہ ملک سے باہر فلم کو ریلیز نہیں کر رہے کیونکہ اس سے فلم کو نقصان ہوگا۔ عد لیہ نے پدماوتی پر پابندی کی درخواست مسترد کردی ہے۔غور طلب ہے کہ اس معاملے میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا کہ اگر تاریخی حقائق کے ساتھ کھلواڑ کر چتوڑ کی رانی ملکہ پدماوتی کے خلاف اس فلم میں منظر فلمائے گئے ہیں تو اسے مدھیہ پردیش میں نمائش کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے نے کہا تھا کہ پدماوتی فلم راجستھان میں بغیر کسی ضروری تبدیلی کے بغیر نمائش کی مجاز نہیں ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ میں نے پہلے ہی مؤرخ اور راجپوت سوسائٹی کے لوگوں کو یہ فلم دکھانے کے لئے تجویز کی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ قانون انتظامیہ نیزامن و و امان کو برقرار رکھنے کی ریاست کی پہلی ذمہ داری ہے؛ لہذا کسی بھی نقض امن کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ گجرات کے وزیر اعلی وجے روپا تی نے بدھ کو کہا تھا کہ گجرات حکومت راجپوتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی فلم پدماو تی کو ریاست میں نمائش کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ہم اپنی تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔ ہم بیان اورآزادی اظہارمیں یقین رکھتے ہیں، لیکن ہماری عظیم ثقافت کے ساتھ کوئی غلط قسم کا افسوسناک رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا ۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے پدماوتی کی نمائش پر پابندی کی درخواست کو مسترد کردیا ہے ۔ اس درخواست میں وکیل ایم ایل شرما نے 1 دسمبر کو فلم کی نمائش پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فلم کے پروڈیوسر نے عدالت کو گمراہ کردیا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ پدماوتی فلم میں تاریخی کردار ملکہ پدماوتی کے کردار کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اگر فلم بند نہیں ہوئی تو پھر غیر مناسب نقصان کا امکان ہے ۔اس سے قبل شرما نے ایک اور درخواست دی تھی جس میں پد ماوتی فلم کی نمائش پر پابندی عائدکرنے کی بات کی گئی تھی۔ عدالت نے درخواست نامہ پر غور کرنے سے انکار کیا کہ یہ معاملہ اب بھی سینسر بورڈ میں زیر التواء ہے۔