سینٹ لوئس،4؍مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)محکمہ انصاف نے میسوری ریاست کے شہر سینٹ لوئس کے31 سالہ تھامپسن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو ہراساں کرنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز کیں۔امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی ' نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے حال ہی میں کم ازکم آٹھ یہودی کمیونٹی سینٹرز کو بم کی دھمکیاں دی تھیں۔محکمہ انصاف نے میسوری ریاست کے شہر سینٹ لوئس کے 31 سالہ جوان تھامپسن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو ہراساں کرنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز کیں۔محکمہ انصاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھامپسن نے اس خاتون کو ملوث کرنے کی کوشش میں کئی دھمکیاں اس کے نام سے بھی دیں۔نیویارک میں موجود امریکی اٹارنی پریت بہارارا نے ا یک بیان میں کہا کہ "آج ہم نے تھامپسن پر فرد جرم عائد کی ہے جس نے مبینہ طور پراپنی سابقہ گرل فرینڈ کو تنگ کرنے، اور اس کی نام پر یہودی کمیونٹی سینٹرز اور یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) یا ہتکِ عزت مخالف لیگ کو مبینہ طور پردھمکیاں دیں۔تھامپسن کی طرف سے مبینہ طور پر دی گئی دھمکیاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تقریباً ایک سو یہودی اداروں کو دی گئی دھمکیوں کی ایک کڑی تھی۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے کئی سینٹرز کو خالی کرنا پڑا اور یہودی کمیونٹی کے کئی افراد میں ایک خوف کا حساس پیدا ہو گیا۔یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا تفتیش کار یہ سمجھتے ہیں کہ دیگر دھمکیوں میں بھی تھامپسن کا ہاتھ ہے۔ان دھمکیوں کی علاوہ دو ہفتے قبل دو ریاستوں میں یہودی قبروں کے کتبوں کو نقصان پہنچایا گیا جن میں ایک سینٹ لوئس میں واقع تھا جہاں سے تھامپسن کو گرفتار کر گیا۔ ان واقعات میں لگ بھگ 100 قبروں کے کتبوں کو نقصان پہنچایاگیاجن میں سے بعض کا تعلق 1800ء کی دھائی سے ہے۔تھامپسن کی ٹویٹر فیڈ سے یہ ظاہرہوتاہے کہ وہ سفید فام لوگوں اورصدرڈونلڈٹرمپ کے خلاف بظاہر نسل پرستانہ تبصروں کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔