کولکاتہ ، 19/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال جہاں 23 اور 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے، پر الیکشن کمیشن اپنی گرفت مضبوط کررہا ہے۔ اسمبلی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کرنے کے بعد چند ہی گھنٹوں میں بلکہ راتوں رات چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری ، ڈی جی پی اور کولکاتا کے پولیس کمشنر جیسے اہم عہدوں پر فائز افسران کے تبادلے اور انہیں انتخابی عمل سے رکھنے کی ہدایت کے بعد بدھ کو اس نے ۱۱؍ ضلع مجسٹریٹس( ڈی ایم) اورکولکاتا کے میونسپل کمشنرکو عہدہ سے ہٹا دیا۔ الیکشن کمیشن کے اس طرز عمل پر تنقیدیں ہورہی ہیں اور الزام لگ رہا ہے کہ وہ بی جےپی کی ایما پر کام کررہا ہے۔ دوسری طرف ممتا بنرجی کواپنا اقتدار بچانے کیلئے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی کا سامنا ہے۔
حالانکہ مغربی بنگال کے ساتھ کیرالا،آسام، تمل ناڈو اور پڈوچیری میںبھی الیکشن ہونے ہیں مگر انتظامیہ میں ردوبدل کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی ساری توجہ بنگال پر مرکوز ہے۔اس کے علاوہ یہاں بڑی تعداد میں مرکزی نیم فوجی دستوں کوبھی تعینات کیا جارہاہے۔ بدھ کوکوچ بہار میں راجو مشرا کی جگہ جتین یادو اور جلپائی گوڑی میں روی پرکاش مینا کی جگہ سندیپ گھوش کو مقرر کیا گیا ہے۔ شمال دیناج پور میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جہاں سوریندر کمار مینا کے بجائے ویویک کمار چارج سنبھالیں گے۔ اسی طرح مالدہ اور مرشد آباد میں بالترتیب پریتی گوئل اور نتن سنگھانیہ کی جگہ راجبیر سنگھ کپور اور آر ارجن کو تعینات کیا گیا ہے۔
کمیشن نے شمال اور جنوبی 24 پرگنہ کی انتظامی قیادت میں بھی تبدیلی کی ہے، جہاں شمال ۲۴؍ پرگنہ میں ششانک سیٹھی کی جگہ شلپا گوریسریا اور جنوبی24پرگنہ میں اروند کمار مینا کے مقام پر ابھشیک کمار تیواری کو مقرر کیا گیا ہے۔ شمالی پہاڑی ضلع دارجلنگ میں سنیل اگروال کی جگہ ہری شنکر پانیکر کو تعینات کیا گیا ہے، وہیں کولکاتہ میں کے ایم سی کمشنر انشل گپتا کی جگہ اسمتا پانڈے کو مقرر کیا گیا ہے، جو شمالی کولکاتہ کیلئے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گی۔
اس بیچ ٹی ایم سی کے ان 74 اراکین اسمبلی کی برہمی کا بھی سامنا ہے جنہیں پارٹی نے ٹکٹ سے محروم کردیا ہے۔ ٹی ایم سی میں بغاوت کے آثار نظر آرہے ہیں جبکہ پارٹی اسے حکومت مخالف لہر سے نمٹنے کیلئے ’’ کنٹرولڈ تبدیلی‘‘ کا نام دے رہی ہے۔ شمالی بنگال سے لے کر ریاست کے جنوبی حصوں تک ناراض لیڈروں نے احتجاج کیا اور متعدد نے پارٹی کے تنظیمی عہدوں سے استعفیٰ دےدیا۔ا نہوں نے یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی وارننگ بھی دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ انتخابات سے قبل پارٹی کی جانب سے کی گئی امیدواروں کی بڑی تبدیلی کے ساتھ کیا خطرات جڑے ہوئے ہیں۔منگل کو جاری کی گئی فہرست میں ٹی ایم سی نے اپنے۷۴؍ موجودہ اراکین اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیا، جو اس کی مقننہ میں مجموعی طاقت کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں۔
اُدھر ہمایوں کبیر نے اپنی ’’عام جنتا انیان پارٹی‘ کے بینر تلے 182امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے 15 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔ ہمایوں کبیر کی وجہ سے ممتا کے سامنے کچھ مسلم ووٹروں کے کٹ جانے کا خطرہ ہے۔