لکھنؤ، 19/جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) یوپی اور بہار میں دھوپ کی تمازت اور گرمی کی لہر، قہر بن چکی ہے۔ لوگوں کا جینا محال ہو گیا ہے اور صورتحال شدید تشویشناک ہو گئی ہے۔ اتر پردیش کے اکثر اضلاع میں درجہ حرارت ۴۰؍ ڈگری کے پار ریکارڈ ہورہاہے مگر بلیا ضلع میں حالات انتہائی تشویشناک ہوگئے ہیں۔ یہاں ۷۲؍ گھنٹوں میںگرمی کی وجہ سے ۵۴؍ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں اور ۴۰۰؍ سے زائد افراد کو اسپتال داخل کیا گیاہے۔ اُدھر بہار میں شدید گرمی کی وجہ سے گزشتہ ۳؍ دنوں میں ۴۴؍ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں، حقیقی کیفیت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔
بلیا کے ضلع اسپتال میں ایک ہفتے میں ۱۲۱؍ لوگوں کی موت سے کہرام مچ گیا ہے۔ پچھلے ۲۴؍ گھنٹوں میں ہی ۳؍ درجن سے زائد افرادجان گنوا چکے ہیں۔ بلیا کے ساتھ ہی کشی نگر میںچار، کانپور اور الہ آباد میں دو-دوجبکہ غازی پور میں ایک شخص کی موت کی اطلاع ہے ۔ ذرائع کے مطابق بلیا ضلع میں حالات اتنے خراب ہو چکےہیں کہ ہر گھنٹے میں ۵؍ سے ۶؍مریض ایمرجنسی میں داخل ہو رہے ہیں۔ اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے انتظامی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے۔
وہاں کے سی ایم ایس ڈاکٹر دیواکر سنگھ نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ یہ اموات ’ہیٹ اسٹروک(گرمی اور لو لگنے کی وجہ) سے ہوئی ہیں تو ان کاغیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی پاداش میں تبادلہ کردیا گیا۔ ضلع اسپتال کے سرجن ڈاکٹر اے کے یادو کو چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ انچارج کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بلیا کےڈی ایم رویندر کمار نے سی ایم او ڈاکٹر جینت کمار کے ساتھ اتوار کی صبح ایک بیان جاری کرتے ہوئے گرمی اور ہیٹ اسٹروک کی وجہ سےاموات کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لکھنؤ سے ماہرین کی ٹیم اسپتال میں ہونے والی اموات کا پتہ لگانے کیلئےپہنچی ہے۔اس ٹیم میں ڈائریکٹر سطح کے دو سینئر ڈاکٹر ہیں جو اصل صورتحال کی تفصیلات تحریری طور پر حکومت کو سونپیں گے۔نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے ریاست کے تمام ضلع اسپتالوں کو سبھی بھرتی مریضوں کا ڈیٹا تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ادویات کی کوئی کمی نہیں ہے اوروہ خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ریاست کے تمام سی ایم او اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اسپتال میں داخل ہر مریض کی شناخت کریں ، ان کے علاج کے اچھے انتظامات کریں۔
برجیش پاٹھک کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال کےکسی مریض کو بازار سے دوائیاں خریدنے کی ضرورت نہیں ہے، حکومت نے تمام انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔