ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی میں مذبح کیخلاف من مانی کارروائیوں پر عدالت برہم ؛ شہری انتظامیہ سے کیا جواب طلب ؛ لائسنس کی تجدید کیوں نہیں کی جارہی ؟

یوپی میں مذبح کیخلاف من مانی کارروائیوں پر عدالت برہم ؛ شہری انتظامیہ سے کیا جواب طلب ؛ لائسنس کی تجدید کیوں نہیں کی جارہی ؟

Tue, 28 Mar 2017 11:51:10    S.O. News Service

لکھنؤ27؍ مارچ( ایس او نیوز ؍ ایجنسی ) وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کی ہدایت کے بعد غیر قانونی مذبح کے نام پر انتظامیہ کی من مانی کارروائی پر پیر کو لکھنؤ ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور نگر نگم سے دریافت کیا کہ پرانے لائسنسوں کی تجدید کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔ اُدھر اجودھیا کے ایک سنت بھی یوگی سرکار سے گوشت تاجروں کو مہلت دینے کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ مہلت نہ دی گئی تو وہ خودکشی کرلیں گے۔

اس سلسلے میں ایڈوکیٹ گریش چندرا کی پٹیشن پر ہائی کورٹ نے حکومت کو مذبح بند کرنے کا حکم نامہ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اگلی سماعت 3؍ اپریل کو ہوگی۔ ایڈوکیٹ گریش کے مطابق ’’ حکومتوں اور نگرنگم کی بدعنوانیوں کا خمیازہ آج غریب دکاندار بھگت رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’ جب محکمہ ماحولیات سے لائسنس لینا ضروری ہوگیا تب بھی یوپی کے 300؍ سے زیازہ سلاٹر ہاؤسیز کو نگرنگم نے لائسنس جاری نہیں کیا اور نہ زیر التواؤ درخواستوں پر لائسنسوں کی تجدید (رینیول ) کی ۔انہوں نے 2015ء میں ہی لکھنؤ کے 412؍ گوشت تاجروں کی طرف سے پٹیشن داخل کر کے لائسنس رینیو کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی ۔

دوسری جانب اجودھیا کے سنت سوامی ناتھ چترویدی نے سلاٹر ہاؤس کے تنازع پر خودشی کی دھمی دی ہے۔ انہوں نے راجد دھانی میں اس موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں کہا کہ ’’ اگر وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے گوشت اور مچھلی کا کاروبار کرنے والوں کو ایک سال کی مہلت نہ دی تو میں اسمبلی کے سامنے خودکشی کرلوں گا۔ ‘‘ سوامی ناتھ نے کہا کہ ’’یوگی جی نے راتوں رات یہ حکم دے کر لاکھوں افراد کو بے روزگار کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ سلاٹر ہاؤس اور گوشت اور مچھلی کا کاروبار کرنے والوں کو 11؍ مارچ 2018ء تک مہلت دی جائے تا کہ یہ لوگ لائسنس لے سکیں اور تب تک کام کرسکیں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ سلاٹر ہاؤس کو بند کرنے سے پہلے عوام سے رائے لینی چاہیے تھی۔ ‘‘ سوامی ناتھ چترویدی نے مزید کہا ہے کہ ’’یوگی جی آپ ناتھ فرقہ سے آتے ہیں اور چھتر یہ ہیں اس لئے راج دھرم نبھاتے ہوئے قوم کی حفاظت کیجئے۔‘‘

پارلیمنٹ میں بھی گونج ، حکومت نے صفائی پیش کی : مذبح کے خلاف دھاندلی نما کارروائی کی گونج پیر کو پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے حکومت ہند سے سوال کیا کہ آخر اتر پردیش میں گوشت کی دکانوں کو کس بنیاد پر بندکیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس معاملہ میں حکومت کی پالیسی کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کیا حکومت واقعی بھینس کے گوشت کے ایکسپورٹ کو فروغ دینا چاہتی ہے یا پھر اس پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال اس لیے کررہاہوں کہ اس وقت یوپی کا جو ماحول ہے ، اس میں بھینس کا گوشت ایکسپورٹ کرنے والی کئی یونٹوں کو بھی بند کیا جارہا ہے ۔ اویسی کے علاوہ کانگریس کے لیڈر ملکا ارجن کھرگے نے بھی لوک سبھا میں یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن کے پاس لائسنس ہیں انہیں بے وجہ پریشان نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شکا یتیں آرہی ہیں کہ نا جائز کے ساتھ ساتھ جائز دکانوں کو بھی بند کرایا جارہا ہے اور اگر ایسا ہورہا ہے تو یہ غلط ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے کہا کہ کارروائی صرف نا جائز اور غیر قانونی سلاٹر ہاؤسیز کے خلاف کی جارہی ہے جبکہ لائسنسی دکانوں اور مذبح کا نشانہ نہیں بنایا جارہا ۔

اس کے ساتھ ہی لکھنؤ میں اتر پردیش حکومت کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بھی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جو بھی کارروائی ہورہی ہے وہ غیر قانونی مذبح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پاس مذبح چلانے کے لائسنس ہیں انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چکن اور انڈے کی دکانوں پر کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام کو درست کرنے کیلئے یہ کارروائی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یوگی حکومت کی جبری کارروائی کے خلاف یوپی میں گوشت تاجروں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے ۔یہاں تاجروں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کردیا ہے جس میں پیر سے شدت آگئی ۔ کوشش کی جارہی ہے کہ اس ہڑتال میں مچھلی تاجروں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ دوسری طرف یوگی حکومت کے باوجود ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے۔


Share: