نئی دہلی3مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی یونیورسٹی میں طالبہ گرمیہر کور کو دھمکی ملنے کے معاملے میں سکھوں کی طرف سے بی جے پی کی اسٹوڈنٹ ونگ کے خلاف زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے اسے دیکھتے ہوئے آر ایس ایس نے جمعہ کو دھمکی دینے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرکے اپنا نظریہ صاف کر نے کی کو شش کی۔ سنگھ نے صاف کہاہے کہ معاملے کی جانچ ہونی چاہئے اورمجرم کسی بھی تنظیم کا ہو، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔آر ایس ایس کی صوبائی تنظیم کو چلانے والے برج بھوشن سنگھ بیدی نے جمعہ کو پنجاب کے جالندھر میں ایک بیان جاری کیا جس میں اس معاملے کو لے کر سنگھ کا رخ واضح کر دیا گیا۔ بیدی نے کہا کہ کسی بھی خاتون یا نوجوان عورت کے خلاف نامناسب الفاظ کا استعمال کرنا یا اس دھمکی دینا ہماری ثقافت کے خلاف ہے۔سنگھ اس کے بالکل خلاف ہے۔بیدی نے کہا ہے کہ حکومت کوچاہیے کہ وہ پورے معاملے کی جانچ کرائے اور مجرم پائے جانے والے کے خلاف قانون سممت ایکشن کرے، چاہے کسی بھی سیاسی پارٹی یا تنظیم سے تعلق رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ثقافت عورتوں کا احترام کرنے والاہے۔سنگھ اس بھارتی ثقافت کا حمایتی ہے۔ دشمن کی طرف کی خواتین کو بھی عزت اور احترام دیا جاتا ہے اور اسی پر عمل کرتے ہوئے شیواجی مہاراج نے اپنے دشمن کی بیوی کو ماں کہہ کر خطاب کیاتھا۔